The following article has been published exclusively for The Thursday Times by political analyst Ammar Masood.

چیختے چلاتے چینلوں پر دھواں اڑاتی بریکنگ نیوز کے درمیاں ، شعلے برساتی  ہوئی اخبارات کی شہ سرخیوں کے مابین ، سیاسی جلسوں اور جلوسوں کی گرما گرمی میں، پریس کانفرنسز کے ہنگام میں ذرا ایک لمحے کو تو قف کریں تو احساس ہو گا کہ ہم گذشتہ چند سال میں کتنا بدل گئے ہیں۔

یہی ملک تھا  یہی لوگ تھے کہ جب ایک منتخب وزیر اعظم کو اقامے کی بنیاد پر اٹھا کر باہر پھنک دیا  گیاتھا تو لوگ داد کے ڈونگرے بجاتے تھے، انصاف کے قصیدے پڑھتےتھے۔ اب وہی ملک ہے وہی لوگ ہیں اور ہر روز کرپشن کا ایک نیا سکینڈل آتا ہے لیکن لوگ خاموش رہتے ہیں، بس تماشا دیکھتے رہتے ہیں زبان سے کچھ نہیں کہتے۔ پہلے وزیر اعظم نے پاناما میں اپنی بے گناہی کے ہزار یقین دلائے مگر کسی کو یقین نہیں آیا۔ سب یہی کہتے تھے وزیر اعظم پہلے مستعفی ہو تو باقی پانامہ والوں کا احتساب ہو گا۔ اب وہ وزیر اعظم جا چکا ہے لیکن اب کسی کو پاناما کے باقی افراد کی لسٹ یاد نہیں۔  اب کا وزیر اعظم روز اقرار کرتا ہے کہ بہنوئی کے پلاٹ کے لیے چھ آئی جی تبدیل کر دیے ، بنی گالہ کا محل راتوں رات ریگولرائزڈ ہو گیا مگر کوئی انقلاب کی پہلی سی نوید نہیں سناتا ۔ کوئی سول نافرمانی پر نہیں اکساتا ، کوئی بجلی کے بل نہیں جلاتا ، کوئی وزیر اعظم کے جانے کی خوشخبری نہیں سناتا ۔

یہی ملک تھا یہی لوگ تھے چند سال پہلے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے والے سب سے بڑے مجرم سمجھے جاتے تھے، بقول عمران خان ، یہ قرضے اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے ہوتے ہیں ، اگر انھوں نے قرضہ لیا تو وہ کم از کم خود کشی کرلیں گے ۔ اب وہی لوگ ہیں وہی ملک ہے ، ہر روز کسی ملک کی منت سماجت  کی مہم جاری رہتی ہے۔ آئی ایم ایف سے نہ صرف قرضہ لیا بلک سخت ترین شرائط پر لیا۔ ملک کے بچے بچے کا بال بال قرضے میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہم آئی ایم ایف کے غلام ہو گئے ہیں ۔ آئی ایم ایف ہم سے وہی سلوک کر رہا ہے جو قرضہ دینے والے سیٹھ ، قرض دار سے کرتے ہیں۔  لیکن اب کسی غیرت نہیں جاگتی، اب کسی کی قومی حمیت جوش نہیں مارتی ، اب کسی کو سبز جھنڈے کی عظمت یاد نہیں آتی، اب غلامی کی اس زندگی پر کسی کو اعتراض نہیں ہوتا، اب کسی کو معاشی بدحالی پر فکر نہیں ہوتی ،اب کوئی چلتی معیشت کی گاڑی کو روک کر معیشت دانوں سے رائے نہیں لیتا، اب کوئی سیمنار نہیں کرواتا ،اب کسی کو ٹوئیٹ کر کے نہیں بتایا جاتا کہ ادارے آپ کی معاشی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔

یہی ملک تھا یہی لوگ تھے جب ن لیگ کو “قیمے والے نان کھانے والے” کہا جاتا تھا ، پٹواری کے لقب سے پکارا جاتا تھا، جاہل اور اجڈ کہا جاتا تھا، پرچیوں والے وزیر اعظم کہہ کر ان کا مذاق اڑایا جاتا تھا، درست انگریزی نہ بولنے پر تمسخر اڑایا جاتا تھا، وزیروں کی فوج کو خاندانی مثلث کہا جاتا تھا، ووٹروں کو بریانی کے ندیدے پکارا جاتا تھا، ڈان لیکسں کو غداری کہا جاتا تھا،  وزیر اعظم کے منہ پر جوتے پھینکے جاتے تھے ، وزراء کے چہروں پر سیاہی پھینکی جاتی تھی، ہر کسی کو کافر ، غدار اور کرپٹ کے لفظ سے پکارا جاتا تھا۔ 

 اب بھی یہ وہی ملک ہے وہی لوگ ہیں مگر اب کوئی ایسی باتیں نہیں کر رہا۔  آج کا وزیراعظم کئی اداروں کی توہین کر چکا ہے مگر کوئی نوٹس نہیں لیتا،اب وزیر اعظم اپنی حماقتوں سے کبھی جاپان اور جرمنی کی سرحد ملا دیتا ہے ، کبھی ایران میں دہشت گردی کا اقرار کر لیتا ہے ، کبھی سال میں بارہ موسم ایجاد کر لیتا ہے ، کبھی اقرار کرتا ہے کہ انکی ٹریننگ درست نہیں ہوئی ، ان کو ابھی تک معیشت کی سمجھ نہیں آئی، کبھی اپنے وزراء میں صرف دوستوں کو جگہ دیتا ہے،لیکن اب کوئی کچھ نہیں کہتا ہے ، اب کوئی توڑ پھوڑ پر آمادہ نہیں کرتا ، اب کوئی پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر چڑھائی نہیں کرتا۔

یہی لوگ تھے یہی ملک تھا جب چند سال پہلے مہنگائی ہوتی تھی، سارا ملبہ وزیر اعظم پر ڈال دیا جاتا تھا، بجلی کے نرخ میں چند پیسے کے اضافے سے یہاں غریب کی کمر ٹوٹ جاتی تھی، گیس کی قیمت بڑھنے سے  یہاں صنعت کار کی عزت لٹ جاتی تھی، ٹماٹر پیاز کی قیمت بڑھنے سے خودکشی کی خبریں چلنے لگتی تھیں، انڈے مرغی کی قیمتیں بڑھنے سے “کُکڑی چور” کے نعرے لگتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہوتا حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں یہ وہی ملک ہے۔ 

اب قیمتوں میں اضافے پر سرکاری ترجمان بین الاقوامی مارکیٹ میں کساد بازاری کی مثالیں دینے لگ جاتے ہیں، اب مرغی کی قیمتوں میں اضافے کے قصیدے پڑھے جاتے ہیں ، اب بجلی کے نرخ بڑھنے کو ملکی ترقی بتایا جاتا ہے، اب گیس کے قیمت بڑھنے پر موسم کی سردی کو الزام دیا جاتا ہے، اب تو کوئی پارلیمنٹ پر حملہ نہیں کرتا ، اب تو کوئی پی ٹی وی پر چڑھائی نہیں کرتا۔ 

یہی لوگ تھے یہی ملک تھا کہ دھرنا اس ملک کی سب سے بڑی ایکٹویٹی تھی۔ جب سارے چینل مسلسل ایک ہی تصویر دکھاتے تھے، جب دھرنوں میں رقص سے انقلاب آنے کی امید تھی، جب بجلی کے بل نذر ِآتش کر کے جشن منایا جاتا تھا،  دھرنے کی تقریروں کو انقلاب کا پیش خیمہ  سمجھا جاتا تھا،  جب دھرنے کے شرکا کو اشتعال پر سر ِعام اکسایا جاتا تھا، جب نفرت کے تیر چلائے جاتے تھے، جب سیاستدانوں کی نقل اتار اتار کر ان کا مذاق اڑایا جاتا  تھا ، جب حکلومت کو گالی دی جاتی تھی اور شلواروں کو سپریم کورٹ کی دیواروں پر  سوکھنے کے لیے پھیلایاجاتا تھا۔ 

اب بھی وہی ملک ہے اب بھی وہی لوگ ہیں ،اب اپوزیشن کے جلسوں کی کوریج کا اذن نہیں ملتا ۔ اب  چینلوں کی نشریات کے دوران کسی لال بھجکڑ کی غلطی سے بار بار مناسب موقعوں پر  میوٹ کا بٹن  دب جاتا ہے۔ اب لاکھوں کے مجمع کی تعداد کومحض چند ہزار بتاتے ہیں ، اب پُر امن لوگوں پر اشتعال انگریزی کا مقدمہ کھڑا ہو جاتاہے، اب سیاسی رہنماؤں کو سر ِعام گرفتار کر لیا جاتا ہے ، اب صحافیوں کے منہ بند کر دیے جاتے ہیں اور  ان کو سرِعام اغوا کیا جاتا ہے لیکن  اب  تو کوئی کچھ نہیں کہتا   اور اس خاموشی کا سہرا ، عمران خان اور ان کےساتھ ، چٹان کی طرح،  ڈھٹائی کے ساتھ ،  ایک صفحے پر جمی قوّتوں کے سر ہے۔

ہم چند سال میں کتنے بدل گئے ہیں ۔ اس کا ایک پہلو اور بھی ہے۔

چند سال پہلے لوگ پیزا  کا ذکر کرتے تھے تو کسی کو جنرل عاصم باجوہ کا  خیال نہیں آتا تھا،  پہلے لوگوں کو یہ یاد نہیں تھا کہ ستر سالوں سے اس ملک میں کسی وزیر اعظم نے مدت پوری نہیں کی، پہلے لوگوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ ایک خلائی مخلوق بھی ہوتی ہے، ایک محکمہ زراعت بھی ہوتا ہے ، جو  بدزبان لوگوں کو شمالی علاقہ جات کی سیر کروانے  پر مامور ہے، پہلے لوگوں کو ووٹ کی عزت کا نعرہ نہیں  یاد تھا ، پہلے لوگ بنگلہ دیش کے گروتھ ریٹ کی مثالیں نہیں دیتے تھے،  پہلے پاریلیمان کی سپریمسی کا نام نہیں لیتے تھے، پہلے اپوزیشن لیڈر ایک کٹھ پتلی حکومت کے قیام کے لیے،   جنرل قمر باجوہ نام نہیں لیتے تھے، پہلے لوگ دھرنے کا موجد جنرل پاشا اور جنرل ظہیر الاسلام کو قرار نہیں دیتے تھے،  پہلے لوگوں کو معلوم ہی نہ تھا کہ ان کی غربت ، بدحالی  اور مفلسی کا سبب کون ہے۔ اب لوگ سب جانتے ہیں ، اب لوگ سمجھتے ہیں   اورکھل کر بات کرتے ہیں ،بہادری سے نام لیتے ہیں۔  اورسوچ کی اس تبدیلی کا تمام تر کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے۔ 

چیختے چلاتے چینلوں پر دھواں اڑاتی بریکنگ نیوز کے درمیاں ، شعلے برساتی اخبارات کی شہ سرخیوں کے درمیاں ، سیایسی جلسوں اور جلوسوں کی گرما گرمی میں، پریس کانفرنسز کے ہنگام میں ذرا ایک لمحے کو  توقف کریں تو احساس ہو گا کہ ہم گذشتہ چند سال میں کتنا بدل گئے ہیں۔

Disclaimer: The views and opinions expressed in this article are those of the authors and do not necessarily reflect the official policy or position of the newspaper.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here