ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں  13000 افراد نے سن 2012ء میں خودکشی کی جبکہ  2016  کے دوران خودسوزی کے رپورٹڈ کیسز کی تعداد 5500 تھی۔ پاکستان جیسے معاشرے میں  “بندوق صاف کرتے گولی چل جانا” یا  غیرت کے نام پر قتل کو دیگر بہانوں میں جس طرح لپیٹ کر چھپایا جاتا ہے اس تمام روایت کو دیکھتے ہوئے ہر ذی شعور بخوبی ادراک رکھتا ہے کہ خودکشی کے حوالے سے رپورٹ ہونے والے نمبرز کِس حد تک واضح ہوں گے۔


پاکستان کے ادارہ شماریات کے مطابق 2017ء کے دوران 8235 انسان قتل ہوئے جبکہ 9499 اقدامِ قتل کے رپورٹڈ کیسز موجود ہیں۔ اور ہمارے نظام میں قتل کو چھپانے یا دیگر حیلے بہانوں سے جسٹیفائی کرکے اندرکھاتے معاملہ دبانے کا رواج بھی سب ہی کے علم میں ہے۔ ایسے میں ان فگرز کو حتمی سمجھنا بھی دشوار ہی معلوم ہوتا ہے۔
اس تحریر کا  آغاز  اعداد و شمار کے ساتھ کرنے کا مقصد پاکستان میں خودکشیوں کی بڑھتی  شرح یا وجوہات پر بات کرنے سے کہیں پہلے ہمارے اجتماعی معاشرتی رویوں اور ان لوگوں کی گفتگو کے پیٹرن کو ڈسکس کرنا ہے جو انسانی جان کے زیاں کو نارملائز کرنے میں بھرپور حصہ داری نباہتے چلے جارہے ہیں۔


ہمارے ہاں ایک روایت بن چکی ہے کہ مبینہ جوشِ خطابت میں وہ وہ باتیں کر دی جاتی ہیں جو کہ صحتمند معاشرے میں کی ہوں تو آپ کی ذہنی صحت پر سوال اٹھ جائیں۔ ایسے دعوے اور اس قسم کے طعنے جو آپ کے فالؤرز یا پرستاروں کو اپنی ہی زندگی ختم کرلینے پر اکسائیں یا خودکشی کے حوالے سے خیالات کو تنگ گلی میں دھکیل دیں۔ انہیں تائید ملنا بھی بیمار معاشرے ہی کی نشانی ہوتی ہے۔
گزشتہ دنوں ایک فرمائشی انٹرویو میں سب نے دیکھا سُنا کہ پاکستان کے سابق کرکٹ کپتان، جن کی سپورٹس مین سپرٹ کی مثالیں سنتے ہمارے کان پَک گئے، اور وہ اب وزیرِاعظم ہوتے ہیں نے نہایت سہولت کے ساتھ فرا دیا کہ لوگ خودکشی نہ کریں تو کیا کریں۔ وہ فلمی ڈائیلاگ یاد آگیا کہ “اور آپشن ہی کیا ہے؟” ۔ یہ پہلی دفعہ نہیں کہ عمران خان صاحب نے ایسی گل فشانی کی ہے۔ وہ آفاقی شہرت یافتہ دھرنا 2014ء میں کنٹینر سے بھی فرماتے رہے کہ “میں خود کو ختم کرلوں گا اگر نوازشریف کا استعفیٰ نہ مِلا” ۔پھر یہ دعویٰ بھی فرماتے رہے کہ اگر آئی۔ایم۔ایف کے پاس قرض لینے جانا پڑا تو خودکشی کرلیں گے۔ 


اپنی زندگی ختم کرلینے کے ان دعووں کے دوران وہ منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے اپنے پیروکاروں کو بھی اکساتے رہے کہ فلاں فلاں کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹو، الٹا لٹکا دو، سرِعام پھانسی دو۔ اور پھانسی کے حوالے سے تو سب ہی آگاہ ہیں کہ موجودہ انتظام کے چہروں میں کتنی رغبت و تائید پائی جاتی ہے۔ کم از کم پانچ ہزار بندہ تو “سرِعام لٹکانا” چاہتے ہیں اور اس خواہش کی راہ میں قانون کو رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ایک وحشت اور جنون ہے جو کسی طور ختم ہونے کو نہیں آرہا۔


پھر اگر ہم اپوزیشن کے رویے کی جانب نگاہ دوڑائیں تو ادھر سے بھی بارہا عمران خان کو شرمندہ کرنے کی غرض سے خودسوزی کے دعوے یاد کروانے کی پوری طعنہ سوز کوشش ہوتی رہی ہے۔ 


 اس سب شور شرابے میں مجھے کہیں ہلکی سی بھی پریشانی دیکھنے سُننے کو نہیں ملتی کہ کوئی پلیٹ فورم اپنا کنسرن شو کرتے ہوئے آگے آئے اور سمجھائے کہ معاشی بدحالی، معاشرتی دباؤ، سماجی رویے، نفسیاتی مسائل اور دیگر وجوہات سمیت خودکشی یا قتل کے معاملے میں ایسے گفتگو کے انداز یا بیمار سوچ کے اظہار کِس پیمانے پر سب غلط کو نارملائز کررہے ہیں۔ 


ہمارے ہاں نفسیاتی عوارض کے حوالے سے جتنی توہمات، غلط فہمیاں اور خدشات کے انبار ہیں ان کے نیچے دَب کر نفسیاتی کرب کا شکار انسان پہلے ہی ماہرین یا ڈاکٹرز سے مدد لینے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہتے ہیں اور اپنے قریبی افراد سے بھی شئیر کرنے سے کتراتے ہیں جس کے باعث مرض بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر ایک قیمتی انسانی جان ہم سے منہ موڑ لیتی ہے۔ ایسے میں سیاستدانوں، صحفات سے جُڑے ناموں اور سماجی سطح پر کام کرنے والوں کی جانب سے خودکشی کو بطور مذاق قوٹ کرنا یا طعنہ بنا دینا یا پھر “آخری آپشن” بتانا کِس طرح قابلِ ستائش ہوسکتا ہے اس پر مجھ ناچیز کو رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی جواب ہو تو ضرور آگاہ کیجیے ورنہ کوشش کرکے کم از کم انفرادی طور پر اپنے رویے اور سوچنے کے انداز میں تبدیلی لائیں۔

Disclaimer: The views and opinions expressed in this article are those of the authors and do not necessarily reflect the official policy or position of the newspaper.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here