بھائی ہمارے ابو فوت ہوگئے ہیں،والدہ عدت میں ہیں،ہماری کچھ امداد کردیں۔پوچھنے پر بچی نے اس علاقے کا بتایا جہاں اس کا خاندان مقیم ہے۔چونکہ آج کل بہت فراڈ چل رہا ہے اس لئے بچی سے تقاضا کیا کہ بیٹا گھر میں کسی کا نمبر دے دیں انشاءاللہ راشن کل پہنچادیں گے۔بچی نے کہا بھائی میں ہی سب سے بڑی ہوں امی کے بعد،میرے پوچھنے پر کہ بیٹا کوئی چچا تایا یا ماموں ہیں تو اس بچی کے جواب نے مجھے کئی دن تک بے سکون رکھا۔بچی نے کہا اگر وہ ہماری مدد کرتے تو آپ لوگوں کے آگے ہاتھ کیوں پھیلاتے۔شاید حالات کی سختی نے اس کم عمر بچی کو اپنی عمر سے بڑی بات کرنا سکھا دیا تھا۔یہ چند دن پہلے ہی کی بات ہے  دکان پر موجود ایک سیل مین نے کہا کہ یہ پروفیشنل مانگنےوالے ہیں۔ جںکہ میرا ماننا تھا کہ اس بچی کے لہجے میں سختی شاید خود کو معاشرے کی درندگی سے بچانے کےلئے تھا۔

ایسے کئی واقعات ہمیں حال ہی میں کرونا کی پہلی لہر کی سختی کے دوران دیکھنے کو ملے لیکن اس سے پہلے اس بات کا جواب ،جو سوال سب سے ذیادہ پوچھا جاتا ہے کہ سوشل ویلفیئر کا کام کیسے اور کیا سوچ کر شروع کیا۔    یہ سب شروع کیسے ہوا اس کا جواب تو یہ کہ سوشل میڈیا پر ایک بچی جس کی ایک بہن جگر کی بیماری کی وجہ سے فوت ہوئی کےعلاج کےلئے لوگوں سے امداد کی اپیل سے شروع ہوا۔    خیال کیسے آیا کہ سوشل میڈیا کا استعمال اس کام کےلئے کیا جائے تو اس جواب یہ کہ میرے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کی پہنچ اچھی تھی اور اکثر ٹویٹس وائرل ہوجاتی تھی تو سوچا کیوں نا اس نیک کام کےلئے اس کو استعمال کیا جائے۔    نیت صاف تو منزل آسان،اور اللہ نے کب کہاں سے اسباب بنائے آج بھی سوچنے بیٹھوں تو سمجھ نہیں آتی البتہ اللہ کے رزاق ہونےپر ایمان مزید پختہ ہوجاتا ہے۔    

کرونا سے قبل ہم لوگ پچھلی سردیوں میں غریب بچوں کے لئے ملک کے تقریبا تمام شہروں میں گرم کپڑے،رضائیاں اور گرم جرابیں بھیج چکے تھے ساتھ ہی کچھ غریب خاندان کی بیٹیوں کی شادیاں،کچھ مریضوں کا علاج و کفالت کا انتظام کرچکےتھے اس لئے ہم نے کرونا کے ایام میں سفید پوش غریب خاندانوں کو راشن پہنچانے کا کام شروع کیا۔    اللہ رب العزت نے بہترین اسباب بنائے اور ہم نے باکمال اور اللہ کے بہترین لوگوں کی مدد سے ملک کے تمام ہی شہروں حتی کہ فاٹا،آزاد کشمیر،بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بھی اللہ کے فضل سے راشن پہنچایا۔    راشن کے بعد رمضان میں افطار،غریب بچوں کےلئے ملک کے مختلف شہروں میں غریب بچوں،بزرگوں کےلئے کپڑے،ملک بھر میں کرونا سے لڑنے والے اسٹاف کےلئے پی پی ای کٹس ،ماسک اور سینیٹائزرز بھیجے۔    اس سب کام میں ہم نے حتی الامکان کوشش کی کہ شفافیت کو یقینی بنائیں،کیسز کی ویریفکیشن کروائی گئیں،جہاں اللہ کے نیک بندوں سے واسطہ پڑاوہیں بہت سے لوگوں سے واسطہ پڑا جو فراڈ نکلے۔    گوجرانوالہ میں ہم نے ایک آٹو رکشہ چلانے والے بزرگ کےلئے تین بار راشن بھیجا ہر بار وہ کسی ضرورت مند ہمسائے کو دیکر آگئے،جبکہ ایسے نیچ لوگ بھی ملے جنہوں مری ہوئی ماں کے نام سے جھوٹی میڈیکل رپورٹس بنائی ہوئی تھیں۔    

اس وقت ہم دو پراجیکٹس پر کام کررہے ہیں،ایک گرم کپڑے ملک کے مختلف شہروں میں غریب بچوں کے لئے بھجوارہے ہیں اور دوسرا سرد علاقوں میں ٹھنڈ سے بچنے کےلئے غریب خاندانوں کے لئے رضائیاں۔    ہم سے اکثر سوال ہوتا کہ کیسے یہ کام شروع کرسکتے،آپ اپنے گردو نواح میں ایسے گھروں کو ڈھونڈ سکتے جہاں دو وقت کا کھانا مشکل سے میسر آرہا ہے۔    آپ ان کی خبر گیری کرسکتے ہیں،آپ ہم سے اپنے شہروں میں بسنے والی بیواؤں اور یتیم بچوں کی کفالت کا ذمہ لے سکتے،آپ کسی یتیم بچے/بچی کو پڑھانے کا ذمہ لےسکتے ہیں۔    کسی غریب کی بیٹی کی شادی کرواسکتے ہیں۔کسی غریب مریض کی تیمارداری کریں اور استطاعت ہونے پر امداد کریں۔ایسے کئی کام شروع کرکے آپ اللہ کے بندوں کے حقوق پورے کرسکتے ہیں۔ ہم نےاس کام میں مکمل کوشش کی کہ لوگوں کو ان کے مذھب،رنگ و نسل پر نہیں پرکھا صرف ضرورت پر جانچا۔ اس بلاگ کا مقصد آگاہی ہے قطعی خود نمائی نہیں،ہم کچھ کیسز کے حوالے سوشل میڈیا پر بھی اس ہی لئے شیئر کرتے کہ ایک تو شفافیت رہے دوسرا آگاہی پھیلے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اس کام سے جڑتے جائیں۔کچھ دن پہلے ایک بھائی نے میسج کرکے کہا کہ آپ کی وجہ سے تین یتیم بچوں کو اسکول میں داخل کروایا ہے۔    خوشی اس بات سے ملتی ہے۔    

اپنے گردو نواح میں غریب ضرورت مندوں کی خبر گیری کرتے رہا کریں،قیامت کے روز سخت حساب ہوگا کہ اللہ کے بندوں کے حقوق کس حد تک پورے کئے۔    

Disclaimer: The views and opinions expressed in this article are those of the authors and do not necessarily reflect the official policy or position of the newspaper.

Website | + posts

Aadi Roy is a freelancer currently working in the field of research. He is a popular social media activist who strives towards the betterment of society as well as civil supremacy. With a Masters degree in Business at his disposal, he claims it doesn't represent him.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here