بالآخر25 جولائی 2018 کو پاکستان سے چلنے والی تبدیلی کی لہر اپنی تیسری سالگرہ پر25 جولائی کو2021 کو کامیابی سے سفر کرتی ہوئی آزاد کشمیر تک پہنچ گئی

۔25 جولائی 2018 کو ہونیوالے حالات و واقعات اور 25 جولائی 2021 کو رونما ہوئے حالات و واقعات میں بہت زیادہ مماثلت دیکھنے میں آئی بالکل اسی طرح الیکشن رزلٹس آنا شروع ہوئے اور پھر اچانک رزلٹس انتظار فرمائیے پر لگ گئے اور چند گھنٹے بعد جب رزلٹس آنے کا سلسلہ شروع ہوا تو منظر نامہ بدل چکا تھا آگے والے پیچھے اور پیچھے والے آگے ہوچکے تھے جو بقول ہمارے دوست تجزیہ نگار عمار مسعود، پاکستان میں الیکشن میں عوام 9 سے 5 بجے تک ووٹ ڈٓالتے ہیں اور شام 5 سے رات 9 بجے تک فرشتے ووٹ ڈالتے ہیں

آزاد کشمیر الیکشن سے قبل خوب گہما گہمی دیکھنے میں آئی پاکستان میں برسر اقتدار حکومتی جماعت تحریک انصاف سمیت دوسری سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے کشمیرمیں جلسے کیے تعداد کے لحاظ سے ن لیگ کے جلسے بہت کامیاب رہے پیپلز پارٹی کے جلسوں میں بھی عوام نے بھرپور شرکت کی

ن لیگ کی الیکشن کیمپین کیلئے مریم نواز خصوصی طور پر کشمیر گئیں اور وہاں کئی روز قیام کیا ہر روز دو سے تین جلسوں سے خطاب کرتی رہیں جن میں عوام کی بھر پور شرکت ہوتی رہی اور ہر گزرتے دن کیساتھ عوام کا جوش و خروش بڑھتا گیا ہر جلسہ چاہے وہ کسی دور دراز گاوں میں ہوتا لائن اور کنٹرول کے پاس ہوتا یا پھر میر پور مظفرآباد جیسے شہروں میں ہوتا عوام کا ایک جم غفیر مریم نواز کو سننے کیلئے انکا استقبال کرنے کیلئے امڈ آتا

پیپلز پارٹی کے جلسوں میں بھی گہما گہمی دیکھنے میں آئی بلاول بھٹونے کشمیرالیکشن کیمپین کا آغاز کیا اور پھر کیمپین کے دوران ہی انکو اچانک نجی دورہ پر امریکہ جانا پڑگیا یوں الیکشن کیمپین کو ادھورا چھوڑ کر اچانک امریکہ جانے نے ایک سوالیہ نشان چھوڑ دیا؟ بلاول بھٹو کے امریکہ جانے کے بعد انکی بہن محترمہ آصفہ بھٹو نے کشمیر الیکشن کیمپین کو آگے بڑھایا اور کامیاب جلسے کیے

مسلم لیگ ن کے کامیاب اور بڑے جلسے دیکھ کرلگنے لگا کہ آئیندہ الیکشن میں ایک مرتبہ پھر ن لیگ آزاد کشمیر کی بڑی جماعت بن کر ابھرے گی اور جسطرح پاکستان میں مہنگائی کے طوفان تلے عوام دبی ہوئی اسکو دیکھتے ہوئے محسوس ہونے لگا کہ کشمیر کے عوام اس سے سبق سیکھتے ہوئے تحریک انصاف کو مسترد کردینگے لیکن ایسا نہ ہوسکا اور نتیجہ تحریک انصاف کی فتح کی صورت میں سامنے آیا

مسلم لیگ ن کو نشستیں تو توقع کیمطابق کافی کم ملیں لیکن “مریم نواز فیکٹر” کھل کراسطرح سامنے آیا کہ عوام نے انکی پکارپر کھل کر بھر پور طریقہ سے لبیک کہا اور اگر حاصل کردہ ووٹوں کو دیکھا جائے توتمام ترحکومتی مشینری حکومتی اور میڈیا سپورٹ کے باوجود ن لیگ نے کشمیرمیں اپنے ووٹ بینک کوبہت زیادہ مستحکم کیا ہے اور ان حالات میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اور ووٹ کوعزت دو بیانیہ کیساتھ اتنے زیادہ ووٹ لینے کا تمام تر سہرا مریم نوازکوجاتا ہے

اگر مجموعی طور پر ووٹوں کی تعداد کو دیکھا جائے تو آزاد کشمیرمیں پاپولرووٹ کا تناسب یہ رہا

تحریک انصاف 32 فیصد حاصل کردہ ووٹ 6 لاکھ 13 ہزار

مسلم لیگ ن 25 فیصد حاصل کردہ ووٹ 4 لاکھ 91 ہزار

پیپلزپارٹی 18 فیصد حاصل کردہ ووٹ ل3اکھ 50 ہزار

اگرآزاد کشمیر کے رزلٹس پر ایک نظر دوڑائیں تو یوں لگتا ہے کہ ان اتخابات میں آزاد کشمیر کے عوام نے پاکستان میں پٹرول آٹا چینی دوائی بجلی گیس کی بڑھتی ہوشربا قیمتوں کے حق میں اور سندھ میں ہوتی ورلڈ کلاس ترقی کو دل کھول کر ووٹ ڈالا ہے کشمیر الیکشن کے نتائج کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہاں کے لوگ بھی پاکستان میں پچھلے تین برس سے آتی تبدیلی کو بھر پور طریقہ سے مستفید ہونے کودیدہ فرش راہ ہیں

 آزاد کشمیر والوں کو نئی نکور تبدیلی مبارک ہو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here