دو ھزار تیرہ سے دو ھزار اٹھارہ تک یعنی تحریک انصاف حکومت سے پہلے جی ڈی پی گروتھ ریٹ 5.08 پر پہنچ گیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے اپنی ”شاندار معاشی پالیسی“ کی بدولت اسے منفی 01. پر گرا کر دم لیا ڈالر تب سو روپے پر باندھ دیا گیا تھا مگر موجودہ حکومت کے آتے ہی ناتجربہ کاری اور بے بصیرتی کے سبب ڈالر کو بال و پر فراہم کیے گئے اور وہ ایک سو ستر سے اوپر پرواز کر بیٹھا۔

گیس کا بل جو چند سو روپے سے آگے نہیں بڑھتا تھا اس میں % 225 کا اضافہ ہوا اور اب گیس بھی ایک لگژری کی صورت اختیار کر گئی جس نے لوگوں کی چیخیں نکال دیں۔ جبکہ مہینہ ابھی اکتوبر کا ھے لیکن گیس ناپید ھے.

مہنگائی کی شرح % 3 سے % 16 پر پہنچ کر لاکھوں لوگوں کو خط غربت کے نیچے دھکیل کر لے گئی۔
جبکہ ایک دن پہلے پٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے سے خوفناک مہنگائی ایک عفریت کی مانند سامنے کھڑی ھے

سٹیٹ بینک نے معاشی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ سال غربت کی شرح % 11 سے بھی زیادہ بڑھ جائے گی لیکن ماھرین کے مطابق یہ شرح اس سے بھی زیادہ بڑھ چکی ھے۔

گزشتہ ستر سالوں میں پاکستان نے بحیثیت مجموعی چوبیس ٹریلین ڈالر کا قرضہ لیا تھا لیکن عمران خان کی حکومت نے صرف ڈیڑھ سال میں بارہ ہزار نو سو اکتالیس ارب (ستر سال کے مجموعی قرضے کا تقریباً آدھا) قرضہ لے کر صرف بیس ماہ میں نو ٹریلین کا مزید قرضہ چڑھا دیا تھا. باقی ڈیڑھ سال کا حساب کتاب اس سے بھی زیادہ خوفناک ھے.

وزیراعظم صاحب فرماتے ہیں کہ کورونا معاملے پر غریب عوام میں بارہ سو ارب بانٹ دیے گئے لیکن مشیر خزانہ آئی ایم ایف کو لکھ کر بتا رہے تھے کہ صرف پانچ سو ارب دیے گئے۔
اس سلسلے میں اڑتالیس ارب کی انفرادی اور تین سو ارب کی مجموعی کرپشن کی کہانی الگ سے ھے
جب اعلی ترین سطح پر شفافیت کا یہی معیار اور اقتصادی کوآرڈینیشن کی صورتحال یہی ہو تو پھر اس سے وہی معیشت برآمد ہوگی جو ہمارے سامنے ہے۔

تبدیلی کا ذائقہ مزید چکھ لیتے ہیں، اور آگے بڑھتے ہیں!
پانچ ہزار آٹھ سو پچیس ارب کا تاریخی گھپلا گلی کوچوں میں زیر بحث ہے۔

رزاق داؤد، خسرو بختیار اور ندیم بابر کے نام اور کام سے اس ملک کا بچہ بچہ واقف ہو چکا ہے لیکن بیانیہ تاحال وہی ہے کہ میرا ہر مخالف چور ہے۔

چینی اور آٹے پر سو ارب سے زیادہ کرپشن سامنے آئی اور غریب عوام کو دن دیہاڑے لوٹ لیا گیا۔

رپورٹ سامنے پڑی ہے کہ نو ملز مالکان کو ادائیگیاں کی گئیں تھیں دس بڑی ٹرانزیکشنز ہوئی جن میں سے چھ فرمز سرے سے ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ بھی نہیں لیکن اس کے باوجود بھی کوئی جہانگیر ترین یا خسرو بختیار کو ہاتھ تو لگا کر دیکھے، البتہ مخالف جو بھی سامنے آئے، اسے پکڑ بھی لیں اور جکڑ بھی لیں،

یہ حکم نامہ صرف مخالفین یا با الفاظ دیگر عوامی تائید سے معمور لیکن ریاستی طاقت سے محروم ہر فرد کے گرد گھومنے لگی ہے اور جمہوریت کی گردن نیب نے دبوچ لی ہے۔

احتساب کا عمل اوپر سے شروع کرنا تھا لیکن جھونپڑیاں نا صرف غریبوں کی زمین بوس ہوئیں بلکہ ان پر بھوک اور افلاس کا بے رحم چھڑکاؤ بھی جاری ہے۔

ریاست مدینہ مالم جبہ، بی آر ٹی، بلین ٹری سونامی، آٹا، چینی سکینڈل، میڈیسن گھپلے اور ٹائیگر فورس پر بھی کہاں آکر رکی

حضرت عمرؓ کے کرتے کی مثال دینے والے کا وزیر اسد عمر ببانگ دہل اعلان کر ر ھا تھا کہ سبسڈی سکینڈل کے معاملے پر وزیر اعظم کسی کو بھی جوابدہ نہیں۔

بے نظیر انکم سپورٹ کا نام تبدیل کر کے احساس پروگرام رکھ دیاگیا لیکن کارکردگی ملاحظہ ہو کہ ایک کروڑ دس لاکھ افراد کو امداد کے لئے چنا گیا لیکن ابھی تک صرف بتیس لاکھ لوگوں کو ادائیگی ہوئی ہے لیکن حساب کتاب دینے سے انکار بھی ہے اور اٹھتر لاکھ لوگوں کو ادائیگی بھی ناممکن دکھائی دیتی ہے، حالانکہ یہ رقم پہلے ایک کلک سے بینکوں سے مل جایا کرتی تھی۔

اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو مالی خود مختاری مل گئی تھی لیکن لگتا ہے کے اس کی چیر پھاڑ بھی ہونے کو ہے، اور حسب توقع قصائی کا کردار نیب ہی ادا کرے گا۔

آئین کے مطابق سال میں ایک سو تیس دن قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا ضروری ھے لیکن لوٹ مار سے فرصت ملے تو پارلیمان کا رِخ کریں نا
اس سے پارلیمان کی وقعت اور جمہوری اقدار کا اندازہ لگایا جائے۔

کبھی قوم سے صرف سچ بولنے والے نے شہباز گل جیسے ”حق پرستوں“ کو اپنا ترجمان بنا کر اپنا وعدہ پورا کیا اور کذب بیانی کے دریا ٹھاٹھیں مارتے ہوئے رواں دواں ہیں۔

انتظامی مہارت ساہیوال واقعے سے تفتان بارڈر کھولنے تک لمحہ لمحہ اور قدم قدم پر نہ صرف ہمارا منہ چڑا رہا ہے بلکہ ہمارے اعتماد کو بھی لڑ کھڑا رہا ہے۔

کورونا وائرس اور ڈینگی پورے ملک کو لپیٹ میں لے چکے ہے لیکن موصوف جنتر منتر کالا جادو جنات نحوست اور جادو میں پھنسے ہوئے ہیں
حتی کہ اب حساس اور ذمہ داری کے متقاضی معاملات بھی انہی توہمات کی بھینٹ چڑھائے جا رہے ہیں.

معاشی پالیسی بھیک اور کشکول کے فلسفے پر کھڑی ہے اور عوام کا ریلا خط غربت کے نیچے دبتا چلا جا رہا ہے۔

سو یہ ہے وہ تبدیلی جس کے لئے ایک اودھم مچایا گیا۔
یہ ہے اس بیانئے کا غبار جس کے لئے سیاست اور صحافت پر حرص و خوف پیہم برسایا گیا ہے۔
یہ ہے وہ عوامی لہر جس نے عوام کی زندگی اجیرن کردی۔
یہ ہے وہ مسیحائی جس نے ان در و بام پر نحوست برسائی ۔
یہ ہے ان خوابوں کی دل آزار تعبیریں جو بے بصیرت رتوں میں آنکھوں میں اتری تھیں۔

اور یہ ہے وہ انتظام جو جج ارشد ملک اور آر ٹی ایس سسٹم کی بندش جیسی بنیادوں پر کھڑا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان ”بنیادوں“ کی بوسیدگی پر سوالات کی تند و تیز بارشیں مسلسل برسنے لگی ہیں اور “قرب و جوار ” کے وہ گھروندے بھی اس طوفانی بارش کی زد میں ہیں جو گئے دنوں میں مظبوطی اور طاقت کے قلعے ہوا کرتے تھے

+ posts

Hammad Hassan has been in the journalism field for well over twenty years, during which he has written for both national and internationally-published mediums. He is highly regarded for his distinctive style of analysis. A pro-democratic and anti-authoritarian, Hassan's new book "قلم بولتا رھا" is out now.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here