Stances from all angles, no holds barred

9.9 C
Islamabad
Thursday, 20 January 2022

غدار فیکٹری

- Advertisement -

+ other posts

Hammad Hassan has been in the journalism field for well over twenty years, during which he has written for both national and internationally-published mediums. He is highly regarded for his distinctive style of analysis. A pro-democratic and anti-authoritarian, Hassan's new book "قلم بولتا رھا" is out now.

تحریر: حماد حسن


آمرانہ قوتوں کے پروردہ گورنر جنرل غلام محمد غیر جمہوری طریقے سے قومی اسمبلی توڑ دیتا ہے تو دلیر اور جمہوری اصولوں پر کاربند سپیکر مرکزی اسمبلی مولوی تمیز الدین اس اقدام کو فیڈرل کورٹ میں چیلنج کر کے آمرانہ قوتوں کے مقابل پہلے جمہوریت پسند سیاستدان کی حیثیت سے سامنے آ جاتا ہے۔
چند دنوں بعد چیف جسٹس جسٹس منیر کا بدنام زمانہ فیصلہ آمرانہ قوتوں کے لئے عدالتی سہولت کاری کی نہ صرف بنیاد رکھ دیتا ہے بلکہ اس فیصلے سے ایک غددار فیکٹری بھی وجود میں آ جاتی ہے جس کے چلانے والے اپنی مرضی سے جب اور جسے چاہیں غددار بھی بنا سکتے ہیں پھانسی بھی چڑھا سکتے ہیں جلا وطن بھی کر سکتے ہیں اور جیلوں میں بھی ڈال سکتے ہیں گویا غدداری کا فیصلہ کسی عدالتی فورم کسی دلیل اور کسی شہادت کے بغیر محض بدنیتی اور زبانی جمع خرچ کی بنیاد پر کیا جائے گا اور یوں سب سے پہلے اصول پرست اور جمہوریت پسند مولوی تمیز الدین پہلے غدار بنانے جاتے ہیں۔
(جسٹس منیر کے فیصلے کی بدبوداری کا اندازہ اس سے لگائیں کہ جب افتخار محمد چودھری کیس میں ان کے وکیل علی احمد کرد نے ایک موقع پر جسٹس منیر کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہا تو تیرہ رکنی بینچ میں شامل سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے زچ ہوتے ہوئے با آواز بلند کہا کہ خدارا اس فیصلے کا حوالہ نہ دیں اور اس عذاب سے ہماری جان چھڑائیں)۔
اور پھر یہ سلسلہ ایک تباہ کن اور خوفناک بیانیئے کی شکل میں تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتا دکھائی دیتا ہے
غلام محمد سے غلام اسحاق تک اور کنونشن مسلم لیگ سے ق لیگ اور پی ٹی آئی تک آمرانہ قوتوں کی سیاسی سہولت کاری کا یہ ونگ تمام ادوار میں مختلف ناموں اور مختلف افراد کے ذریعے مسلسل فعال رکھا جاتا ھے
تاکہ جمہوریت اور جمہوری حکومتوں کے ساتھ ساتھ سویلین لیڈر شپ کو اوقات میں رکھا جائے
دوسری طرف جسٹس منیر کی “وراثت ” کی نشونما پر خصوصی” توجہ”دے کر ہمیشہ اس سے من مرضی کا “پھل” حاصل کیا جاتا ھے
یہ وراثت جسٹس مولوی انوار الحق سے لےکر چیف جسٹس ارشاد حسن خان جسٹس ڈوگر جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس کھوسہ جیسے عدالتی سہولت کاروں کو جنم دیتا ہے جن کا کام انصاف کی فراہمی کی بجائے محض “حکم کی تعمیل” تک ہی محدود ہوتا ہے۔
جس کی گواہی جسٹس نسیم حسن شاہ سے جسٹس ثاقب نثار تک یہ منصف خود دیتے چلے آرہے ہیں۔
روایتی بیانیئے کا تیسرا لیکن مختلف سلسلہ مولوی تمیز الدین سے شروع ہو کر نواز شریف تک چلا آتا ہے
یہ سلسلہ چونکہ آمرانہ قوتوں کو وارا نہیں کھاتا اس لئے غلام محمد اور جسٹس منیر والے سلسلوں کی کمک اور سہولت کاری کا فائدہ اٹھا کر انہیں غددار چور ڈاکو لادین اور ایجنٹ بنا نے کے بعد راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔
لیاقت علی خان خواجہ ناظم الدین حسین شہید سہروردی فاطمہ جناح بھٹو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ساتھ ساتھ خان عبدالغفار خان ولی خان عبدالصمد خان اچکزئی جی ایم سید اکبر بگٹی اور نواب خیر بخش مری سمیت مثالیں ہی مثالیں ہیں۔

ملاحظہ ہوں کہ آمریت کو للکارنے پر قائد اعظم کی سگی بہن فاطمہ جناح غددار ٹھہرتی ہیں لیکن بزور قوت ملک پر قبضہ کرنے والا ایوب خان مارشل لاء ایبڈو بنیادی جمہوریت دریا بیچنے اور گندھارا انڈسٹریز جیسی شرمناک شہادتوں کے باوجود بھی محب وطن ٹھہرتے ہیں۔
کیونکہ سوال پوچھنے والے شہادت مانگنے والے اور فیصلہ کرنے والے اسی مسلک اور سلسلے سے منسلک ہیں جس کی بنیاد جسٹس منیر نے ایک شرمناک اور تباہ کن فیصلے سے رکھی تھی۔
یحیی خان ڈھاکہ فال شراب و شباب اور اقلیم اختر رانی کے باوجود بھی بلڈی سویلین سے غددار ٹائٹل نہیں چھین سکا کیونکہ ہندوستان سے اپنے نوے ھزار قیدی چھڑوانے کےلئے کامیاب شملہ معاہدہ کروانے قوم کو انیس سو تہتر کا آئین دینے اور ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے والے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کےلئے یہ ٹائٹل تیاری کے مراحل میں تھا۔
جنہیں بعد میں پھانسی پر بھی چڑھا کر “مزید انعام “سے نوازا گیا۔
بے نظیر بھٹو طویل سیاسی اور جمہوری جدوجہد کی وجہ سے غداری اور سیکیورٹی رسک جیسے “اعزازات ” لے جاتی ہیں لیکن ضیاء الحق غیر قانونی مارشل لاء منتخب وزیراعظم کی پھانسی دھماکوں ہیروئن کلاشنکوف کلچر اور جمہوریت کی بیخ کنی کے باوجود بھی اس ٹائٹل سے “محروم ” رہتا ہے۔

پرویز مشرف بے چارے کے ساتھ تو اس”معاملے” میں بہت” زیادتی” ہوئی
حتی کہ عدالتی فیصلے کے باوجود بھی اسے غددار ماننے سے انکار کیا گیا۔

حالانکہ اس نے ہر وہ کام کیا جس کی بنیاد پر وہ غددار ٹائٹل میرٹ پر حاصل کرنے کا مستحق تھا۔

مثلا ایک ٹیلی فون کال پر پورا ملک گروی رکھ کر گلی گلی خود کش بمباروں کی جال بھی بچھا گیا قوم کی بیٹیاں بھی بیچ ڈالیں اور اپنی بے بصیرتی اور بزدلی کے سبب کارگل سے وطن کے سینکڑوں بیٹوں کی لاشیں بھی وصول کیں لیکن اس کے باوجود بھی غددار ٹائٹل سویلین وزیراعظم نواز شریف ھی کے حصے میں آیا کیونکہ ایٹمی دھماکے کامیاب معیشت سی پیک اور موٹر ویز بنا کر وھی اس اعزاز کا مستحق ٹھہرا.

پس ثابت ہوا کہ غددار فیکٹری میں بننے والا مال بھی “اوریجنل” نہیں بلکہ سادہ لوح اور بے خبر “گاہک” کو ہمیشہ دھوکے میں رکھ کر “غلط” چیز پر ٹرخایا گیا
چونکہ “کوالٹی کنٹرول ” کا محکمہ بھی مالکان سے ملا ہوا تھا اس لئے کوئی پوچھ گچھ کرنے کی بجائے الٹا ان کے سہولت کار بن کر ہمیشہ مدد فراہم کرتے رہے اور یوں کسی روک ٹوک کے بغیر “مال” تیار ہوتا اور شور و غل سے بھرے پھرے بے خبری اور نا سمجھی کی مارکیٹ میں دھڑا دھڑ بکتا بھی رہا

لیکن برا ہو سمجھ بوجھ اور وقت کی تبدیلی کا کہ اب مارکیٹ میں شعور اور باخبری جیسے قیمتی اجناس کی آمد نے “کسٹمرز “کی اکثریت کو اپنی طرف کھینچنا شروع کیا اس لئے “پرانا سودا” بکنے کی بجائے پڑا پڑا گلنے سڑنے لگا ہے.
اس لئے شور و غل کے ذریعے غددار بنانے والی فیکٹری مسلسل خسارے میں جانے لگی ہے

اس نئے صورتحال میں مالکان سے زیادہ ان “انویسٹرز ” کی پریشانی دیدنی ہے جن کی کمائی اور امید کا واحد ذریعہ ہی یہی غددار فیکٹری ہے۔
جبکہ غلام محمد اور جسٹس منیر کے “ورثاء ” کے سروں پر بھی ” بے سہارگی کے اندیشے” گھنگور گھٹاوں کی مانند چھانے لگے ہیں۔
اور ویسے بھی بدلتے ہوئے زمانے اور ارتقائی عمل سے امڈتا ہوا شعور یہی سمجھا رہا ہے کہ ہمیں اب جعلی غددار بنانے والی کسی فیکٹری کی ضرورت نہیں بلکہ مستحکم معیشت مظبوط دفاع شفاف عدالتی نظام اور طاقتور جمہوریت کی ضرورت ہے. تا کہ یہ ملک آگے بڑھے

Also Read:  وکٹم بلیمنگ
- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

RELATED ARTICLES