Stances from all angles, no holds barred

9.9 C
Islamabad
Thursday, 20 January 2022

جنونیت کا مصنوعی بیانیہ

- Advertisement -

+ other posts

Hammad Hassan has been in the journalism field for well over twenty years, during which he has written for both national and internationally-published mediums. He is highly regarded for his distinctive style of analysis. A pro-democratic and anti-authoritarian, Hassan's new book "قلم بولتا رھا" is out now.

تحریر حماد حسن


چلیں ہم مان لیتے ہیں کہ سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا نے مذھبی بینر پھاڑا بھی تھا اور پھینکا بھی تھا۔ لیکن ایک ہجوم کے پاس یہ اختیار کہاں سے آیا کہ وہ جج بھی بنے اور جلاد بھی! جی ہاں۔ ایسے معاشرے میں ہمیشہ جاہلیت سے لیس ہجوم ہی جج اور جلاد کی کاروائیاں ڈالتے ہیں جس معاشرے کی عدالتیں انصاف کی فراہمی کی بجائے انصاف فروشی کرنے بیٹھ جائیں۔ جہاں ریاست کسی جنونی گروہ کو اپنے لوگ کہہ کر ان کی سرپرستی کا بیڑا اٹھاتی پھرے۔ جہاں ایوان عدل میں کوئی سرپھرا لیکن دلیر جج کسی جنونی گروہ کی سرپرستی پر سوال اٹھائے اور محاسبے کی ٹھان لے تو اس جج اور اس کے خاندان پر خدا کی زمین تنگ کر دی جائے۔ جس معاشرے میں بائیس کروڑ افتاد گان خاک کےلئے ایک قانون ہو لیکن ملک کے آئین و قانون سے وسائل تک پر قابض طبقے کے لئے ان کی مرضی کا الگ قانون ہو۔ ظاہر ہے کہ ایسے معاشرے میں صرف جاہلیت اور جنونیت سے بپھرے ہجوم ھی پروان چڑھیں گے اور آرمی پبلک سکول سے سیالکوٹ تک جیسے واقعات تسلسل کے ساتھ ہوتے رہیں گے اور بیچ بیچ میں یہ بیان بھی آتا رہے گا کہ ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ بھئ آپ اس حقیقت کو تسلیم ہی کریں کہ آپ کے موجودہ ریاستی بیانیئے سے انہی عوامل اور اسی منظر نامے کے علاوہ کوئی اور شے برآمد ہونا ہی نہیں تو پھر کبھی آرمی پبلک کبھی مسنگ پرسنز کھبی ساہیوال واقعہ اور کھبی سیالکوٹ واقعات پر چیخ و پکار اور انصاف کی دہائیاں دینے کا فائدہ کیا۔ میرا ہمیشہ سے یہی موقف ریا ہے کہ یہ جنونیت اور درندگی نہ ہی اس معاشرے کا فطری مزاج ہے اور نہ ہی موروثی جبلت! بلکہ یہ سب کچھ ایک مصنوعی فضا اور ماحول سے ترتیب پایا۔

مقطع میں سخن گسترانہ بات کرنے میں حرج کیا ہے کہ ہم سب اپنے بزرگوں سے ان ہندووں اور سکھوں کے ان گنت قصے سن چکے ہیں جو انیس سو سینتالیس سے پہلے اقلیت کے باوجود بھی ہمارے معاشرے اور دیہاتوں کا ایک محفوظ لیکن فعال حصہ تھے۔ حیرت ہوتی ھے کہ آج سے چوہتر برس پہلے جب نہ تعلیم عام تھی نہ میڈیا تھا اور نہ ہی قدم قدم پر عدالتیں یا قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود تھے لیکن اس کے باوجود بھی اقلیتوں کو شاندار تحفظ بلکہ اپنائیت حاصل تھی۔ یعنی مذہبی ہم آھنگی کا جذبہ اور برداشت کا رویہ اتنا مظبوط اور اثر پذیر تھا کہ ایک دو واقعات کے علاوہ کوئی بڑا واقعہ تو درکنار معمولی واقعات بھی دیکھنے میں نہیں آئے اور نہ ھی اس وسیع سماج کے کسی چھوٹے سے حصے میں ڈینٹ ڈال سکا۔ جبکہ آج تعلیم کی فراوانی اور متحرک زندگی کے باوجود بھی معاملات اس کے الٹ کیوں ہیں؟ اس کا سادہ اور مختصر سا جواب یہی ہے کہ تب اس حوالے سے ریاستی بیانیہ یہ نہیں تھا جو آج ہے۔ چونکہ اس معاشرے کا فطری مزاج تحمل رواداری اور برداشت کا ھے اس لئے تب ریاست نے معاشرے پر اعتماد کرتے ہوئے معاملات (اقلیتوں اور مذہبی روئیے کے حوالے سے) اسی یعنی معاشرے اور اس کے باوقار سماجی خد و خال پر ہی چھوڑ دیئے تھے جسے کمال ذمہ داری کے ساتھ یہ معاشرہ نبھاتا بھی چلا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں اطراف (پاکستان اور ھندوستان) کے بزرگ اس رومان پرور اور قابل ستائش ناسٹلجیا سے نکل نہیں پا رہے ہیں۔ لیکن مجھے کہنے دیجئے کہ موجودہ جنونیت اس معاشرے کا فطری مزاج اور روایت ہرگز نہیں بلکہ اس درندگی نے مخصوص اور مصنوعی طور پر تخلیق کئے گئے ماحول سے جنم لیا جس کے ہزارہا شواہد ہمارے سامنے ہیں۔ کہنا یہی ھے کہ کسی ایسے بیان سے کہ “ملزموں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا یا ایسے واقعات کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی” سے کوئی امید رکھ کر کسی خوش فہمی میں رہنے سے گریز ہی دانائی ھے کیونکہ جب تک ریاستی بیانیئے کی سمت یہی رہے گا تب تک ان “مقامات آہ و فغاں” سے گزرنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں۔

تلخ حقائق یہ ہیں کہ فی الحال ایک مشکل اور پر آشوب صورتحال درپیش ہے اور ان واقعات کے تدارک کیلئے مربوط اور منظم اقدامات کا دعوی بھی ایک خواب ہی ہے نہ ہی اس سلسلے میں حکمران طبقے کی تسلسل کے ساتھ دہراتے لفظی تسلیوں کو سنجیدگی کے ساتھ لینے یا کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ آرمی پبلک کوئٹہ بم دھماکے کے شہداء اور ساہیوال جیسے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔ کہنا یہی ھے کہ روایتی بیانیہ ابھی ایک جہل اور جنوں کی طاقت سے توانائی کشید رہا ہے لیکن قابل اطمینان بات یہ ہے کہ مخالف سمت سے روشن فکر با شعور اور جمہوری تہذیب کے ثمرات سے آگاہ طبقات بھی جدوجہد پر کمر بستہ اور مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھنے لگے ہیں۔ اگر چہ فی الحال ایک مشکل اور پر آشوب صورتحال درپیش ھے لیکن اس کے باوجود بھی مختلف طبقات فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ جس میں سوشل میڈیا کا کردار بہت اہم ھے جبکہ دلیر اور حق گو صحافیوں کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ با اثر اور عوامی طاقت سے لیس سویلین لیڈر شپ اور سول سوسائٹی کا آئین و قانون کی بالادستی کےلئے ڈٹنا حد درجہ مثبت انڈی کیشنز ہیں۔ گو کہ اپنے فطری ٹریک سے اترے ہوئے معاشرے اور صدیوں کی موروثی جبلت سے مصنوعی ماحول کی طرف دھکیلے گئے سماج کو راہ راست پر لانے کے لئے ابھی حالات وقت اور جدوجہد کے متقاضی ہیں لیکن ارتقائی عمل اور بدلتے ہوئے منظر نامے میں شعور کی فراوانی نئے منزلوں کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں اور راہ و سمت کا تعین بھی۔

Also Read:  جنرل صاحب! میں الیکشن ہار رہا ہوں
- Advertisement -

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

RELATED ARTICLES