spot_img

ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں فوری واپسی، سفارت کاری فیصلہ کن مرحلے میں داخل

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری کشیدگی، جنگ بندی کی کوششوں اور امریکا ایران سفارتی رابطوں کے حوالے سے پاکستان کا کردار تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچے، جہاں وہ عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد واپس آئے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ایرانی ذرائع نے بتایا تھا کہ عراقچی مسقط کے دورے کے بعد اور روس روانگی سے قبل دوبارہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔

عراقچی کی یہ فوری واپسی معمول کی سفارتی نقل و حرکت نہیں سمجھی جا رہی۔ جب کسی ملک کا وزیر خارجہ ایک دارالحکومت سے روانہ ہو، مشاورت کرے، اور چوبیس گھنٹوں کے اندر دوبارہ اسی مقام پر واپس آئے، تو اس کا مطلب عموماً یہ ہوتا ہے کہ بات چیت ابھی جاری ہے اور کسی اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

اسلام آباد اس وقت صرف ایک سفارتی پڑاؤ نہیں رہا بلکہ ایک فعال رابطہ مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ سرحد، مسلم دنیا میں اس کے تعلقات، واشنگٹن کے ساتھ اس کے رابطے اور علاقائی طاقتوں سے اس کی بات چیت اسے ایک ایسے مقام پر لے آئے ہیں جہاں وہ مختلف فریقوں کے درمیان پیغام رسانی اور پس پردہ سفارت کاری میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس سے قبل عراقچی نے پاکستانی حکام سے مشاورت کی تھی، جبکہ اطلاعات کے مطابق ان کے وفد کا ایک حصہ تہران واپس گیا تاکہ جنگ کے خاتمے اور ممکنہ مفاہمت سے متعلق معاملات پر نئی ہدایات حاصل کی جا سکیں۔ اب عراقچی کی دوبارہ اسلام آباد آمد اس بات کا اشارہ ہے کہ مذاکراتی عمل ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ مزید سنجیدہ مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

امریکا ایران سفارت کاری میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے باوجود یہ واپسی اہم ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی نمائندوں کا دورہ روکنے اور ایرانی تجاویز کو ناکافی قرار دینے کے بعد بھی سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ عراقچی کی اسلام آباد واپسی یہی ظاہر کرتی ہے کہ رابطے ابھی جاری ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ ایک غیر معمولی سفارتی لمحہ ہے۔ ایک ایسا ملک جسے اکثر داخلی سیاسی اور معاشی بحرانوں کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا، اب ایک ایسے مقام کے طور پر ابھر رہا ہے جہاں خطے کے بڑے سفارتی پیغامات پہنچائے، سمجھے اور آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times