پاکستان کے افغانستان میں دہشتگرد ٹھکانوں پر حملوں نے طالبان حکومت میں دراڑیں ڈال دیں۔ کابل میں اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس میں پاکستان کے ساتھ تعلقات، شدت پسند گروہوں سے متعلق پالیسی اور مُلّا ہیبت اللّٰہ کی قیادت کے حوالہ سے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی افغانستان میں 7 مختلف مقامات پر انٹیلیجنس بیسڈ سٹرائیکس، دہشتگردوں کے کئی ٹھکانے تباہ اور 100 سے زائد دہشتگرد ہلاک کر دیئے گئے۔ یہ کارروائیاں اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں خودکش حملوں کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔
Pakistan’s targeted airstrikes inside Afghanistan have triggered more than cross-border tension. According to sources, a high-level Taliban conference in Kabul exposed rare and deepening fractures within the regime, with disagreements over Pakistan policy, militant sanctuaries, and even leadership succession.
پاکستان کی افغانستان کے اندر ٹی پی و حقانی نیٹ ورک کے دہشتگرد عناصر اور اُن کے سہولت کاروں کے کیپمس اور محفوظ پناہ گاہوں پر انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیاں؛ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی حملوں میں مارے جانے والے 40 سے زائد دہشتگردوں کے نام سامنے آ گئے۔
جوڑ اور بنوں میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان کا سخت ردعمل، فتنہ الخوارج اور داعش خراسان کے 7 ٹھکانے سرحدی علاقے میں نشانہ بنا دیے گئے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شہریوں کی سلامتی اولین ترجیح ہے اور افغان عبوری انتظامیہ اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
With our team of industry-leading experts with decades of experience in the fields of marketing, design, and journalism, we've got a person for any niche your business deals in.