اگلا نمبر پاکستان کا تاثر گمراہ کن ہے۔ آپریشن ضرب للحق افغان طالبان کی دہشت گرد سہولت کاری اور دہشت گرد سہولت کاروں کے خلاف جاری رہے گا۔ پاکستان اپنے دفاع اور علاقائی سفارت کاری پر پُرعزم ہے۔
پاکستان کا ایران پر حملوں کی شدید مذمت: نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی کا رابطہ۔ کشیدگی فوری روکنے اور سفارت کاری کی فوری بحالی کے ذریعے پُرامن، مذاکراتی حل پر زور۔
پاکستان افغانستان کشیدگی: امریکہ کی جانب سے پاکستان کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت۔ امریکی انڈر سیکرٹری ایلیسن ہُکر نے پاکستان کی سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ سے رابطہ کر کے کہا کہ امریکہ طالبان حملوں کے مقابلے میں پاکستان کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے طالبان حکومت کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہوگی اور “دما دم مست قلندر” ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی بلکہ ہمسایہ ہونے کے ناتے زمینی حقائق اور حالات سے پوری طرح واقف ہے اور تمہاری اوقات بھی جانتی ہے۔
پاک فوج پوری قوم کی فوج ہے، ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں روزانہ قربانیاں دے رہے ہیں، فوجیوں کی گردنیں تن سے جدا کر دی جاتی ہیں، فوج اپنے خون سے حلف کی تائید کر رہی ہے، افغانستان سے کوئی محبت نہیں، شہداء کے خون کے ہر قطرے کا حساب لیں گے۔
Zulfikar Bukhari's remarks to Reuters, describing a freed Imran Khan as unwilling to confront army chief Asim Munir, don't just shift PTI's tone. Coming from one of Khan's closest aides, they quietly kill the "dut kar khara hai kaptaan" promise that has held the party's base together for two years.
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔