لندن (تھرسڈے ٹائمز) — برطانوی نیوز ایجنسی ”روئٹرز“ کے مطابق پاکستان نے ایران کو سعودی عرب کی جانب سے یہ وارننگ پہنچائی ہے کہ تہران اپنے یمنی حوثی اتحادیوں پر قابو پائے۔ یہ بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے کیلئے ایک مربوط کوشش ہے کیونکہ یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے تیز کر دیئے ہیں۔
یمن کے حوثی باغیوں نے منگل کے روز سعودی عرب کے جنوبی حصہ میں خمیس مشیط کے ایک فضائی اڈے اور قریبی شہروں میں تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جس میں 73 افراد زخمی ہوئے۔ یہ فروری میں امریکا اسرائیل اور ایران کی جنگ شروع ہونے کے بعد سعودی عرب کے خلاف سب سے بڑے حملوں میں سے ایک ہے۔
روئٹرز کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایران کو وارننگ ملنا اِس لیے بھی بہت اہم ہے کہ پاکستان کا سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے۔ اسلام آباد کے حکام نے زور دیا ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی فوجی کردار صرف سعودی سرزمین کے دفاع تک محدود رہے گا۔
تاہم پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر حملے سعودی عرب تک پہنچے تو اِس سے ریاض، انقرہ اور اسلام آباد کے درمیان مشترکہ سیکیورٹی معاہدہ متحرک ہو سکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کسی ایک ملک پر جارحیت کو تینوں ملکوں پر جارحیت تصور کیا جائے گا۔
پراکسی جنگ کا وسیع علاقائی بحران میں بدلنے کا خدشہ
روئٹرز کے مطابق کئی سالوں تک سعودی عرب اور ایران دونوں سے تعلقات کا توازن برقرار رکھنے کے بعد پاکستان کی جانب سے مداخلت نے حوثیوں کے حملوں کی سنگینی کو واضح کر دیا ہے۔
روئٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ تہران کیلئے پیغام واضح ہے: ”حوثیوں پر قابو پاؤ، ورنہ یہ پراکسی تنازع ایک بڑے علاقائی سیکیورٹی بحران میں بدل سکتا ہے۔“
برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق ایک سینیئر علاقائی سفارتکار نے کہا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہ پیغام ایران تک پہنچایا ہے، اور تہران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے رکوائے۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے منگل کو یہ پیغام تہران تک پہنچایا تھا۔
روئٹرز کے مطابق دو ایرانی ذرائع نے کہا ہے کہ تہران نے گزشتہ ہفتے حوثیوں کو سعودی عرب پر حملے کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ذرائع کے مطابق تہران نے اضافی فنڈنگ اور ہتھیاروں کا وعدہ بھی کیا، جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کئی کمانڈرز حملوں میں مدد کیلئے یمن بھی گئے تھے۔
پاکستانی ذرائع نے، روئٹرز کے مطابق، بتایا کہ سعودی حکام نے ریاض میں پاکستان اور ترکیہ کے سینئر فوجی نمائندوں سے ملاقات میں اپنے ردعمل سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق تینوں ممالک نے اتفاق کیا کہ اُن کے فوجی یمن میں داخل نہیں ہوں گے، اور کوئی بھی جوابی کارروائی سعودی سرزمین سے ہی کی جائے گی۔
روئٹرز کے مطابق علاقائی سفارتکار نے کہا ہے کہ ایران اور حوثیوں کی طرف سے چلائی جانے والی دباؤ کی مہم کا نتیجہ تہران کی خواہش کے برعکس ہو سکتا ہے۔ ایران بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے پیشِ نظر واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کیلئے خلیجی سلامتی کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم خطرہ ہے کہ سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ اور امریکا کے ساتھ منسلک دیگر ریاستیں آپس میں مزید قریبی سیکیورٹی تعاون کریں گی۔





