امریکا ایران جنگ کے دوران دنیا میں پاکستان کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ بھارتی تنہائی کی وجہ مودی شخصی سفارتکاری ہے۔ بھارت اور افغانستان کے علاوہ کوئی پاکستان کو ظالم ریاست نہیں کہتا۔ آر ایس ایس کا پاکستان توڑنے کا خواب پورا نہیں ہو گا۔
امریکا ایران جنگ بندی کیلئے پاکستان کے سفارتی کردار اور ثالثی کی پیشکش نے بھارت کیلئے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے تو پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران جنگ بندی کیلئے سفارتکاری میں مرکزی کردار بن کر ابھرے ہیں اور پاکستان کی ابھرتی سفارتی اہمیت کا اہم چہرہ بن چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آج پاکستان کو وائٹ ہاؤس تک جو رسائی حاصل ہے وہ پہلے کبھی میسر نہ تھی۔
امریکا کی 15 نکاتی تجویز پاکستانی ثالثی کے ذریعہ تہران پہنچا دی گئی جس کا مقصد ایران کے خلاف جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔ اسلام آباد ایک بااعتماد سفارتی چینل کی حیثیت اختیار کر چکا جس کے ذریعہ واشنگٹن اور تہران کے مابین کشیدگی کم کرنے کا راستہ نکالا جا رہا ہے۔
پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کیلئے پس پردہ سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے، شہباز شریف کی تہران سے گفتگو، اور اسحاق ڈار کی علاقائی سفارت کاری نے اسلام آباد کو ایک ممکنہ مذاکراتی مرکز کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔