Pakistan is quietly but actively positioning itself as a possible mediator in the US-Iran crisis, with its military and political leadership engaging Washington, Tehran and Gulf capitals in an effort to prevent the conflict from widening and to bring diplomacy back to the table.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان رابطہ؛ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور ممکنہ جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کیلئے ثالثی کے کردار میں متحرک، اسلام آباد نے سفارتی سطح پر بیک چینل رابطے بھی تیز کر دیے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر امریکا ایران جنگ بندی کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کیساتھ بات چیت کی تصدیق کرتے ہوئے ایرانی پاور پلانٹس پر حملے 5 روز تک ملتوی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایران معاہدے کیلئے بےتاب ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیم نے ایران سے ممکنہ مذاکرات کے لیے پسِ پردہ منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت جیسے اہم معاملات زیرِ غور ہیں، جبکہ تہران جنگ بندی، مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت اور نقصان کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
موجودہ علاقائی کشیدگی میں پاکستان نے اشتعال انگیزی کے بجائے توازن، سفارت کاری اور داخلی استحکام کو ترجیح دی ہے۔ اصل خطرہ صرف بیرونی محاذ نہیں بلکہ فرقہ واریت، افواہوں اور داخلی تقسیم کو ہوا دینے والی کوششیں بھی ہیں، جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی داخلی یکجہتی ہے۔