پاکستان کی مسلسل سفارتی کامیابیاں بھارت کیلئے باعثِ تشویش ہیں۔ پاکستان امریکا کیساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے۔ مکہ ڈیفینس الائنس نے اسلام آباد کی اہمیت میں اضافہ کیا۔ سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستانی مؤقف کی بڑی توثیق ہے۔
بنگلہ دیش جدید چینی لڑاکا طیارے ”جے 10 سی ای“ خرہدنے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہے، اُس نے پاک بھارت جنگ 2025 میں کارکردگی کو اہم وجہ قرار دیا ہے۔ بنگلہ دیش کے مطابق یہ طیارے یورپی متبادل طیاروں سے کم قیمت مگر فیسں ٹو فیس فضائی جنگ میں اُن سے بہتر ہیں۔
عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری نے روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ رہائی کی صورت میں عمران خان آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے محاذ آرائی نہیں کریں گے۔
یہ محض لہجے میں نرمی نہیں، بلکہ پی ٹی آئی کے دو سالہ بیانیے “ڈٹ کر کھڑا ہے کپتان” کی خاموش تدفین دکھائی دیتی ہے۔
Zulfikar Bukhari's remarks to Reuters, describing a freed Imran Khan as unwilling to confront army chief Asim Munir, don't just shift PTI's tone. Coming from one of Khan's closest aides, they quietly kill the "dut kar khara hai kaptaan" promise that has held the party's base together for two years.
پاکستان کی امریکا سے 10 ارب ڈالرز ایکسچینج سٹیبلائزیشن فیسلٹی کی درخواست، ایران جنگ میں مذاکراتی کردار سے سفارتی اہمیت بڑھنے کے بعد اسلام آباد اقتصادی تعاون کا خواہاں۔ زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہونگے، روپے پر دباؤ اور مالیاتی اداروں پر انحصار کم ہوگا۔