عمران خان کے فیصلوں کے پیچھے بشریٰ بی بی کا علم یا عمل ہوتا تھا، عمران خان سیاست اور ریاست سے متعلق اہم فیصلے بشریٰ بی بی کے کہنے پر کرتے تھے، یہاں تک کہ کب گھر سے نکلنا ہے اور کب واپس آنا ہے، کہاں جانا ہے اور کہاں نہیں جانا، کس سے ملنا ہے اور کس سے نہیں ملنا، یہ سب عمران خان بشریٰ بی بی سے پوچھ کر کرتے تھے۔
عمران خان کی جانب سے امریکی سازش کے الزامات کے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم ماضی میں بھی اس بارے میں بات کر چکے ہیں، عمران خان کے الزامات جھوٹے ہیں اور پاکستانی سیاست امریکی حکومت کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کا فیصلہ آئین و قوانین کے مطابق پاکستان کے عوام نے کرنا ہے۔
Imran Khan's apparent venture into the world of law, despite his history of disregarding due process, adds a touch of irony to his already conflicting persona as a political figure.
Jahangir Khan Tareen has wooed former PTI leaders towards the Istehkam-e-Pakistan Party with a flick of his wrist in a mesmerising twist, leaving Imran Khan feeling isolated in a matter of just 27 hours.
میں آرمی چیف سے اور اسٹیبلشمنٹ سے کہتا ہوں کہ مجھ سے بات چیت کریں لیکن کوئی مجھ سے بات چیت کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں چور دروازے سے اقتدار میں نہیں آنا چاہتا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔