امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ براہِ راست اقتصادی اور دفاعی تعاون بڑھانے کے اقدامات کیے ہیں، جن کے تحت اسلام آباد نے پہلی بار یورینیم سے افزودہ نایاب معدنیات امریکہ بھیجی ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کا دفاعی معاہدہ بھی قریب ہے۔ یہ معاہدے بھارت کیلئے ایک بڑا اسٹریٹجک دھچکا ہیں۔
In a landmark proposal during renewed talks in Dhaka, Pakistan invited Bangladesh to use Karachi Port for exports, seeking to revive dormant economic links and open alternative routes to China and the Gulf as regional alliances shift.
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے سفارتی مہارت سے ثابت کیا کہ ٹرمپ جیسے طاقتور رہنما سے کیسے مؤثر انداز میں ڈیل کی جاتی ہے۔ غزہ جنگ بندی کے بعد ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا “پسندیدہ فیلڈ مارشل” قرار دیا، جبکہ واشنگٹن اسلام آباد کو خطے میں اہم شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
Pakistan’s Field Marshal Asim Munir warned that there is no room for war in a nuclear environment, asserting that Pakistan will respond decisively to any provocation and that India will bear full responsibility for any escalation. He reaffirmed Pakistan’s unwavering stance on the establishment of an independent and sovereign Palestinian state with Al-Quds Al-Sharif as its capital.
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارت کو خبردار کیا کہ ایٹمی ماحول میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان کسی دھمکی سے خوفزدہ نہیں ہوگا اور کسی بھی اشتعال انگیزی کی صورت میں بلا تردد اور غیر متناسب ردِعمل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشیدگی بڑھی تو اس کے تباہ کن اثرات پورے خطے پر پڑیں گے اور ان نتائج کی ذمہ داری براہِ راست بھارت پر عائد ہوگی۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.
Prime Minister Shehbaz Sharif says Pakistan has received Iran’s response, signalling that Islamabad’s mediation channel remains active as regional diplomacy enters a sensitive phase.
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث عوام سراپا احتجاج، وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا۔ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔