امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیم نے ایران سے ممکنہ مذاکرات کے لیے پسِ پردہ منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت جیسے اہم معاملات زیرِ غور ہیں، جبکہ تہران جنگ بندی، مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت اور نقصان کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
انتهت الثقة في إيران بالكامل. السعودية لا تخشى المواجهة، وتحتفظ بحقها في الرد العسكري عند الضرورة. وإذا كانت طهران تعتقد أن دول الخليج لا تملك القدرة على الرد، فهي واهمة. وإيران لن تتوقف ما لم تواجه رداً قوياً وحازماً
ایران پر اعتبار ختم ہو چکا۔ سعودی عرب تصادم سے نہیں ڈرتا، ضرورت پڑنے پر فوجی جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ ایران اگر سمجھتا ہے کہ خلیجی ممالک جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ غلطی پر ہے۔ ایران مضبوط مقابلہ کا سامنا کیے بغیر نہ رُکے گا۔
Israel says a targeted strike killed Ali Larijani, one of Iran’s most senior security figures, but Tehran had not confirmed the claim at the time of reporting. If verified, it would mark one of the biggest direct blows yet to Iran’s leadership in the current conflict.
افغانستان کے خلاف جنگ ہمارا انتخاب نہیں، ضرورت ہے۔ مقصد رجیم چینج نہیں، دہشتگردی کو روکنا ہے۔ پاکستان سے شکست کے بعد بھارت کے پاس پراکسی وار کے علاوہ آپشن نہیں۔ افواجِ پاکستان ہر دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ افغان حکومت کو دہشتگردوں کی سہولت کاری ختم کرنا ہو گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا آپریشن کے بعد ایران کے بارے میں غلط اندازہ لگایا۔
ISPR says three terrorists were killed and one injured Afghan national was captured after a Karachi Rangers camp attack in which three soldiers were martyred.
Bangladesh’s reported interest in Chinese J-10CE jets could mark a new phase in South Asia’s airpower competition, placing fresh strategic pressure on India.
بنگلہ دیش جدید چینی جے 10 سی ای لڑاکا طیاروں کی خریداری پر غور کر رہا ہے۔ پاکستان کے بعد بنگلہ دیش کی طرف سے بھی چینی جے 10 سی پلیٹ فارم اختیار کرنے سے بھارت کو مغرب، شمال اور مشرق تینوں جانب سے ایک ہی نوعیت کے جدید طیاروں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات، علاقائی پیش رفت و امن اقدامات پر تبادلہ خیال ایرانی صدر نے امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ فیلڈ مارشل نے خطہ میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔