پاکستان کی 2025 میں سفارتی معجزات کی بدولت خارجہ محاذ پر پاکستان کی غیر معمولی کامیابیاں۔ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ، امریکہ سے تعلقات کی بحالی، ایران اور ترکی کے ساتھ اقتصادی تعاون، اور چین کے ساتھ تعلقات کا فروغ اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی نے خطے کا توازن بدل دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے سفارتی مہارت سے ثابت کیا کہ ٹرمپ جیسے طاقتور رہنما سے کیسے مؤثر انداز میں ڈیل کی جاتی ہے۔ غزہ جنگ بندی کے بعد ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا “پسندیدہ فیلڈ مارشل” قرار دیا، جبکہ واشنگٹن اسلام آباد کو خطے میں اہم شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
Pakistan’s Field Marshal Asim Munir warned that there is no room for war in a nuclear environment, asserting that Pakistan will respond decisively to any provocation and that India will bear full responsibility for any escalation. He reaffirmed Pakistan’s unwavering stance on the establishment of an independent and sovereign Palestinian state with Al-Quds Al-Sharif as its capital.
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارت کو خبردار کیا کہ ایٹمی ماحول میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان کسی دھمکی سے خوفزدہ نہیں ہوگا اور کسی بھی اشتعال انگیزی کی صورت میں بلا تردد اور غیر متناسب ردِعمل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشیدگی بڑھی تو اس کے تباہ کن اثرات پورے خطے پر پڑیں گے اور ان نتائج کی ذمہ داری براہِ راست بھارت پر عائد ہوگی۔
پاکستان مسلم ممالک سے فلسطین کیلئے فوری و مؤثر عملی اقدامات کی اپیل اور غیرمشروط جنگ بندی، انسانی امداد کی بغیر رکاوٹ فراہمی و اسرائیلی احتساب کا مطالبہ کرتا ہے۔
Per a new purchasing managers’ survey released by HBL and S&P, Pakistan’s manufacturing PMI rose to 50.9 in May, returning to expansion as new orders recovered and export orders posted their strongest rise since February 2025.
Pakistan’s major ports are seeing a sharp rise in container and transshipment activity as Gulf disruption redirects cargo towards Karachi, Port Qasim and Gwadar.
Iranian officials are preparing three days of farewell ceremonies and a 24-hour funeral procession for Ali Khamenei, with events expected in Tehran, Qom and Mashhad.
Trump reportedly warned Netanyahu against further escalation in Lebanon as US-Iran diplomacy faced renewed pressure, with Pakistan and Qatar involved in efforts to preserve a fragile regional framework.