الیکشن کمیشن نے بیرسٹر گوہر کو تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا چیئرمین تسلیم کرنے سے انکار کر دیا؛ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ کے حکمِ امتناع کے باعث زیرِ التواء ہے لہذا کمیشن بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
عمران خان کی سیاست پر بشریٰ بی بی کے غیر معمولی اثر، توہم پرستی پر مبنی فیصلوں، اور فوجی پشت پناہی کے ذریعے اقتدار تک پہنچنے کے بیانیے نے نہ صرف ان کے دعوائے شفاف حکمرانی کو کمزور کیا بلکہ پی ٹی آئی کو ایک شخصی جماعت کے طور پر بے نقاب کیا، جہاں فیصلے ادارہ جاتی طریقہ کار کے بجائے روحانی اشاروں، ذاتی پسند ناپسند اور طاقتور حلقوں کی مرضی سے طے پاتے رہے۔
برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کے مطابق سابق وزیرِاعظم عمران خان جیل میں قید کے دوران سماعت میں کمی اور ورٹیگو جیسے مسائل کا شکار ہیں۔ قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ بیماریاں زندگی کیلئے خطرناک نہیں، لیکن ان سے 72 سالہ رہنما کی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
عمران خان کا 14 دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان۔ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام اور انڈر ٹرائل سیاسی قیدیوں رہائی کا مطالبہ۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔