جامعۃ الرشید (کراچی) کے مہتمم مفتی عبدالرحیم کیمطابق پاکستان نے مُلّا یعقوب کو طالبان امیر مقرر کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد مُلّا یعقوب 5 لاکھ ڈالرز کے عوض طالبان قیادت سے دستبردار ہو گئے۔ پاکستان نے اُن کی بجائے مُلّا اختر منصور کو طالبان کی قیادت سونپ دی۔
موجودہ علاقائی کشیدگی میں پاکستان نے اشتعال انگیزی کے بجائے توازن، سفارت کاری اور داخلی استحکام کو ترجیح دی ہے۔ اصل خطرہ صرف بیرونی محاذ نہیں بلکہ فرقہ واریت، افواہوں اور داخلی تقسیم کو ہوا دینے والی کوششیں بھی ہیں، جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی داخلی یکجہتی ہے۔
امریکا اور صیہونی رجیم کے خلاف ایران کیلئے بھرپور حمایت اور یکجہتی کے اظہار پر پاکستانی حکومت اور عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ایران اپنی حاکمیت اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے ثابت قدمی و استقامت کے ساتھ کھڑا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے دو ماہ کے لیے اعلیٰ سرکاری افسران، حکومتی نمائندوں اور سرکاری اداروں کے سینئر عہدیداروں کی تنخواہوں، مراعات اور بورڈ فیس میں عارضی کمی کا اعلان کیا ہے، جسے مالی دباؤ، ایندھن کی غیر یقینی صورتحال اور ریاستی سطح پر خود احتسابی کے ایک اہم اظہار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔
Prime Minister Shehbaz Sharif has signed the Islamabad MoU as mediator after Donald Trump and Masoud Pezeshkian endorsed the US-Iran agreement aimed at ending hostilities and reopening the Strait of Hormuz.