اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان نے لیبیا کے حریف مشرقی اور مغربی طاقت مراکز کے درمیان خاموش سفارتی ثالثی شروع کر دی ہے، دو پاکستانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا۔ یہ غیر رپورٹ شدہ سفارتی کوشش اسلام آباد کی جانب سے امریکہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں مرکزی کردار کے فوراً بعد سامنے آئی ہے۔
ایک پاکستانی ذریعے کے مطابق امریکہ پاکستان کے لیبیا سے متعلق کردار سے “مکمل طور پر آگاہ اور اس میں شامل” ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک بار پھر ایک پیچیدہ کثیرالجہتی تنازع میں پاکستان کو قابلِ اعتماد سفارتی چینل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق پاکستان مشرقی لیبیا میں قائم لیبین نیشنل آرمی، جس کی قیادت فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کر رہے ہیں، اور مغربی لیبیا میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومتِ قومی وحدت، جس کے سربراہ وزیراعظم عبدالحمید دبیبہ ہیں، کے درمیان ثالثی کر رہا ہے۔ معاملے سے آگاہ دو پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ قطر اور ترکیہ، جو دبیبہ حکومت کے بڑے حامیوں میں شامل ہیں، نے بھی پاکستان کو اس ثالثی عمل میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ، عسکری میڈیا ونگ، قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور امریکہ کی وزارتِ خارجہ نے رائٹرز کی درخواستوں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
رائٹرز کو شیئر کیے گئے مجوزہ “لیبیا ری یونیفکیشن پلان” کے خلاصے کے مطابق، منصوبے میں 36 ماہ کی عبوری شراکتی حکومت کا تصور پیش کیا گیا ہے، جسے “گورنمنٹ آف نیشنل کنسینسس اینڈ پریزیڈنشل کونسل” کا نام دیا جائے گا۔ مجوزہ پلان کے تحت عبدالحمید دبیبہ کو وزیراعظم جبکہ خلیفہ حفتر کے بیٹے اور لیبین نیشنل آرمی کے ڈپٹی کمانڈر صدام حفتر کو صدارتی کونسل کا چیئرمین بنایا جائے گا۔
منصوبے کے تحت خلیفہ حفتر کے دھڑے کو، جو لیبیا کے کئی بڑے آئل فیلڈز اور اہم انفراسٹرکچر پر کنٹرول رکھتا ہے، بجٹ پر اختیار دیا جائے گا۔ ایک پاکستانی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان اس پورے انتظام کو برقرار رکھنے میں “فعال کردار” ادا کرے گا، تاہم تفصیلات ابھی طے کی جا رہی ہیں۔
اگرچہ تجزیہ کار پاکستان کو لیبیا میں ایک ثانوی کردار کا حامل سمجھتے ہیں، جہاں امریکہ، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور مصر برسوں سے اثر و رسوخ کے لیے سرگرم ہیں، تاہم اسلام آباد کے لیبیا کے دونوں متحارب دھڑوں سے رابطے موجود ہیں، جو کئی علاقائی کرداروں کے پاس نہیں۔ رائٹرز کے مطابق مغربی لیبیا کی حکومتِ قومی وحدت نے بھی حال ہی میں پاکستان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی خواہش ظاہر کی تھی۔
برطانیہ کے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ تجزیہ کار جلیل حرشاوی نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکہ لیبیا میں زور لگا رہا ہے، مگر جس فارمیٹ کو وہ آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے وہ ابھی بھی ڈھیلا اور غیر واضح ہے۔
پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے گزشتہ ماہ راولپنڈی میں صدام حفتر سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے چند روز بعد حفتر نے واشنگٹن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی۔
پاکستان نے دسمبر 2025 میں مشرقی لیبیا کی لیبین نیشنل آرمی کے ساتھ 4 ارب ڈالر سے زائد کا دفاعی معاہدہ بھی کیا تھا، جس میں چین کے تعاون سے تیار کیے گئے 16 جے ایف 17 تھنڈر ملٹی رول لڑاکا طیارے اور 12 سپر مشاق بنیادی تربیتی طیارے شامل ہیں۔ یہ پاکستان کے بڑے ترین ہتھیاروں کے برآمدی معاہدوں میں سے ایک قرار دیا گیا تھا، جس میں تربیت، استعدادِ کار میں اضافے اور ممکنہ مشترکہ مینوفیکچرنگ کی شقیں بھی شامل ہیں۔
پاکستان کی لیبیا میں ثالثی کی کوشش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسلام آباد نے امریکہ ایران مذاکرات میں بھی مرکزی کردار ادا کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے ایران کو موقع دیا کیونکہ پاکستان نے ان سے ایسا کرنے کو کہا تھا، جبکہ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی بھی تعریف کی تھی۔ یکم جون کو یورپی یونین نے بھی ایک مشترکہ اعلامیے میں پاکستان کے ثالثی کردار کو باضابطہ طور پر سراہا تھا۔
رائٹرز کے مطابق ایران مذاکرات کے دوران پاکستان نے واشنگٹن کے ساتھ جو اعتماد قائم کیا، وہی اعتماد اب امریکہ کے لیبیا سے متعلق پاکستان کو شامل کرنے کے فیصلے میں بھی جھلکتا ہے۔ ایک پاکستانی ذریعے نے تصدیق کی کہ امریکہ پاکستان کی لیبیا کوشش سے “مکمل طور پر آگاہ اور اس میں شامل” ہے۔




