پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری سیز فائر معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کی باضابطہ تصدیق قطر کی وزارتِ خارجہ نے کر دی ہے۔ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں قطر اور ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے سفارتی مہارت سے ثابت کیا کہ ٹرمپ جیسے طاقتور رہنما سے کیسے مؤثر انداز میں ڈیل کی جاتی ہے۔ غزہ جنگ بندی کے بعد ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا “پسندیدہ فیلڈ مارشل” قرار دیا، جبکہ واشنگٹن اسلام آباد کو خطے میں اہم شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
پاکستانی سر زمین پر مقیم تمام افغانیوں کو اب اپنے وطن جانا ہوگا، اب احتجاجی مراسلات اور امن کی اپیلیں نہیں ہونگی۔ اور کابل نمائندہ وفد بھی نہیں بھیجا جائے گا۔ جہاں بھی دہشت گردی کا منبع ہو گا، اسے بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
Khyber Pakhtunkhwa’s political unrest under Sohail Afridi reveals a province caught between noise and neglect, as Pakistan’s federal resolve is tested by a populist movement that confuses chaos for courage and defiance for governance.
پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو اب وطن واپس جانا ہوگا، پچاس سال سے جاری افغان مہاجرین کی موجودگی اب ختم ہونی چاہیے۔ پاک افغان سرحد کو مکمل طور پر کنٹرول میں لایا جائے گا تاکہ غیرقانونی آمد و رفت، اسمگلنگ اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
مئی 2025 کی پاکستان بھارت فضائی جھڑپ کے بعد جے ٹین سی طیاروں کی عالمی دفاعی حلقوں میں شہرت نمایاں طور پر بڑھی۔ بلومبرگ کے مطابق، جے ٹین سی بنانے والی چینی کمپنی چینگدو ایئرکرافٹ کی فروخت میں تیزی آئی اور منافع ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔
Iranian Ambassador Reza Amiri Moghadam praised Deputy Prime Minister and Foreign Minister Ishaq Dar and Pakistan’s career diplomats for their role in facilitating, coordinating and preparing diplomatic talks.
UNICEF warns Afghanistan could lose 25,000+ female teachers and health workers by 2030, as restrictions on girls’ education and women’s work continue under Taliban rule.
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.