امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ واشنگٹن پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ تعاون کو انسدادِ دہشت گردی سے آگے بڑھا کر تجارت، معیشت اور علاقائی استحکام تک لے جانا امریکی ترجیحات میں شامل ہے۔
پاکستان کی 2025 میں سفارتی معجزات کی بدولت خارجہ محاذ پر پاکستان کی غیر معمولی کامیابیاں۔ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ، امریکہ سے تعلقات کی بحالی، ایران اور ترکی کے ساتھ اقتصادی تعاون، اور چین کے ساتھ تعلقات کا فروغ اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی نے خطے کا توازن بدل دیا ہے۔
خوف اور دہشت پھیلانے والا نظام ختم کر دیا گیا ہے، اب قانون ہاتھ میں لینا ممکن نہیں رہا۔ وفاقی حکومت کی ٹی ایل پی پر پابندی کے بعد ان کے اثاثوں کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔ یہ اقدام کسی جماعت نہیں بلکہ انتشار پھیلانے والے عناصر کے خلاف ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ثابت کیا کہ بہادری اور عوامی خدمت ساتھ چل سکتے ہیں۔
پاکستان نے طاقت کے مظاہرے کے بعد سفارتکاری سے اپنا مؤقف منوایا اور خطے کا نیا نارمل اپنی شرائط پر قائم کر دیا۔ دوحہ میں اسلام آباد کا واحد مطالبہ تھا کہ افغان سرزمین سے پاکستان مخالف دہشت گردوں کی حمایت بند کی جائے، اور اگر وہاں سے حملے ہوئے تو ذمہ دار کیمپ جائز ہدف سمجھے جائیں گے۔
Pakistan and Afghanistan agreed to an immediate ceasefire during Qatar and Türkiye-mediated talks in Doha, pledging to end cross-border violence and respect each other’s sovereignty, with follow-up meetings in Istanbul aimed at building a framework for lasting regional peace.
مئی 2025 کی پاکستان بھارت فضائی جھڑپ کے بعد جے ٹین سی طیاروں کی عالمی دفاعی حلقوں میں شہرت نمایاں طور پر بڑھی۔ بلومبرگ کے مطابق، جے ٹین سی بنانے والی چینی کمپنی چینگدو ایئرکرافٹ کی فروخت میں تیزی آئی اور منافع ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔
Iranian Ambassador Reza Amiri Moghadam praised Deputy Prime Minister and Foreign Minister Ishaq Dar and Pakistan’s career diplomats for their role in facilitating, coordinating and preparing diplomatic talks.
UNICEF warns Afghanistan could lose 25,000+ female teachers and health workers by 2030, as restrictions on girls’ education and women’s work continue under Taliban rule.
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.