پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کر لیا۔ اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ جب تک افغان سرزمین سے سرحد پار دہشتگردی میں ملوث عناصر کی پناہ گاہیں اور پشت پناہی ختم نہیں ہوتی تب تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے طالبان حکومت کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہوگی اور “دما دم مست قلندر” ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی بلکہ ہمسایہ ہونے کے ناتے زمینی حقائق اور حالات سے پوری طرح واقف ہے اور تمہاری اوقات بھی جانتی ہے۔
پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے افغان حکومت اور بھارت کی ملی بھگت سے جاری پراکسی جنگ ہیں، پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر کارروائی کا آپشن موجود ہے جو محض سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کابل اور قندھار تک بھی جا سکتی ہے۔
امریکا نے اقوامِ متحدہ کے تحت جاری کیے جانے والے 2 ارب ڈالرز کے امدادی پیکیج سے افغانستان کا نام خارج کر دیا جس کی وجہ ماضی میں افغانستان پہنچنے والی کچھ انسانی امداد کی طالبان تک منتقلی یا طالبان کی مداخلت کے واقعات ہیں۔
The United States has excluded Afghanistan from a $2 billion United Nations humanitarian aid package, saying it has evidence that some previous assistance in the country was diverted to the Taliban.
Per a new purchasing managers’ survey released by HBL and S&P, Pakistan’s manufacturing PMI rose to 50.9 in May, returning to expansion as new orders recovered and export orders posted their strongest rise since February 2025.
Pakistan’s major ports are seeing a sharp rise in container and transshipment activity as Gulf disruption redirects cargo towards Karachi, Port Qasim and Gwadar.
Iranian officials are preparing three days of farewell ceremonies and a 24-hour funeral procession for Ali Khamenei, with events expected in Tehran, Qom and Mashhad.
Trump reportedly warned Netanyahu against further escalation in Lebanon as US-Iran diplomacy faced renewed pressure, with Pakistan and Qatar involved in efforts to preserve a fragile regional framework.