پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے تحت کِنگ عبدالعزیز ایئربیس پر فوجی دستہ تعینات کر دیا جس میں لڑاکا و معاون طیارے بھی شامل ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسلام آباد امریکا ایران تنازع کے پُرامن حل کیلئے مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔
Saudi Arabia said a Pakistani military force, including fighter and support aircraft, has arrived at King Abdulaziz Air Base under a bilateral defence pact, a deployment that underscores expanding security coordination between the two countries.
پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کی صَف اَوَّل میں کھڑا ہو گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے قریبی تعلقات اور امریکا ایران تنازع میں اسلام آباد کی مؤثر سفارتکاری نے پاکستان کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ اِن حالات میں عمران خان کی واپسی کے امکانات کمزور ہوتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ فی الحال نظام تبدیل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
انتهت الثقة في إيران بالكامل. السعودية لا تخشى المواجهة، وتحتفظ بحقها في الرد العسكري عند الضرورة. وإذا كانت طهران تعتقد أن دول الخليج لا تملك القدرة على الرد، فهي واهمة. وإيران لن تتوقف ما لم تواجه رداً قوياً وحازماً
ایران پر اعتبار ختم ہو چکا۔ سعودی عرب تصادم سے نہیں ڈرتا، ضرورت پڑنے پر فوجی جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ ایران اگر سمجھتا ہے کہ خلیجی ممالک جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ غلطی پر ہے۔ ایران مضبوط مقابلہ کا سامنا کیے بغیر نہ رُکے گا۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔
Prime Minister Shehbaz Sharif has signed the Islamabad MoU as mediator after Donald Trump and Masoud Pezeshkian endorsed the US-Iran agreement aimed at ending hostilities and reopening the Strait of Hormuz.
Shehbaz Sharif says the Islamabad MoU between the United States and Iran has taken immediate effect, with Iran set to reopen the Strait of Hormuz and Washington to lift its naval blockade.