Prime Minister Shehbaz Sharif to deliver a high-stakes speech at the UN General Assembly after meeting President Donald Trump at the White House, as Muslim nations boycott Netanyahu’s address and Pakistan’s leadership gains unprecedented global focus.
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف آج اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے اہم خطاب کریں گے، یہ خطاب وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے ایک دن بعد ہو رہا ہے۔ مسلم ممالک نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خطاب کا بائیکاٹ کر دیا ہے، جس کے بعد شہباز شریف کا خطاب عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
Prime Minister Shehbaz Sharif and Field Marshal Asim Munir meet President Donald Trump in Washington for high-level talks on Pakistan–US relations, security, Middle East peace and investment opportunities as Trump praises Pakistan’s leadership and receives an invitation to visit Pakistan.
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات، دورۂ پاکستان کی دعوت۔ دوطرفہ تعلقات، مشرقِ وسطیٰ میں امن اور نئی سرمایہ کاری پر اہم بات چیت، شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کو امن کا علمبردار جبکہ صدر ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کو عظیم قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات، علاقائی اورعالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال۔ صدر ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کوعظیم قراردے دیا۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، امریکی نائب صدر اور سیکرٹری خارجہ کی بھی شرکت۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔ مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری، نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian will visit Pakistan on June 23 for a one-day official trip following Pakistan and Qatar’s mediation in the latest Iran-US talks in Switzerland.
Pakistan’s role at the Lake Lucerne Summit marked a rare diplomatic success, placing Islamabad alongside Qatar as a mediator in the US-Iran process. Shehbaz Sharif gave the effort political direction, while Field Marshal Asim Munir added security credibility.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔