امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیم نے ایران سے ممکنہ مذاکرات کے لیے پسِ پردہ منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت جیسے اہم معاملات زیرِ غور ہیں، جبکہ تہران جنگ بندی، مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت اور نقصان کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
انتهت الثقة في إيران بالكامل. السعودية لا تخشى المواجهة، وتحتفظ بحقها في الرد العسكري عند الضرورة. وإذا كانت طهران تعتقد أن دول الخليج لا تملك القدرة على الرد، فهي واهمة. وإيران لن تتوقف ما لم تواجه رداً قوياً وحازماً
ایران پر اعتبار ختم ہو چکا۔ سعودی عرب تصادم سے نہیں ڈرتا، ضرورت پڑنے پر فوجی جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ ایران اگر سمجھتا ہے کہ خلیجی ممالک جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ غلطی پر ہے۔ ایران مضبوط مقابلہ کا سامنا کیے بغیر نہ رُکے گا۔
Israel says a targeted strike killed Ali Larijani, one of Iran’s most senior security figures, but Tehran had not confirmed the claim at the time of reporting. If verified, it would mark one of the biggest direct blows yet to Iran’s leadership in the current conflict.
امریکا اور صیہونی رجیم کے خلاف ایران کیلئے بھرپور حمایت اور یکجہتی کے اظہار پر پاکستانی حکومت اور عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ایران اپنی حاکمیت اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے ثابت قدمی و استقامت کے ساتھ کھڑا ہے۔
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔
Prime Minister Shehbaz Sharif has signed the Islamabad MoU as mediator after Donald Trump and Masoud Pezeshkian endorsed the US-Iran agreement aimed at ending hostilities and reopening the Strait of Hormuz.