افغانستان کے خلاف جنگ ہمارا انتخاب نہیں، ضرورت ہے۔ مقصد رجیم چینج نہیں، دہشتگردی کو روکنا ہے۔ پاکستان سے شکست کے بعد بھارت کے پاس پراکسی وار کے علاوہ آپشن نہیں۔ افواجِ پاکستان ہر دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ افغان حکومت کو دہشتگردوں کی سہولت کاری ختم کرنا ہو گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا آپریشن کے بعد ایران کے بارے میں غلط اندازہ لگایا۔
Pakistan has moved to shut down the impression of informal peace talks with the Afghan Taliban, insisting that there will be no dialogue without concrete and verifiable action against cross-border militancy.
پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کر لیا۔ اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ جب تک افغان سرزمین سے سرحد پار دہشتگردی میں ملوث عناصر کی پناہ گاہیں اور پشت پناہی ختم نہیں ہوتی تب تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
فتنہ الخوارج و فتنہ الہندوستان کا افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں امن تبھی ہو سکتا ہے جب افغان طالبان دہشتگردی اور دہشتگرد تنظیموں کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں۔
اگلا نمبر پاکستان کا تاثر گمراہ کن ہے۔ آپریشن ضرب للحق افغان طالبان کی دہشت گرد سہولت کاری اور دہشت گرد سہولت کاروں کے خلاف جاری رہے گا۔ پاکستان اپنے دفاع اور علاقائی سفارت کاری پر پُرعزم ہے۔
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات جولائی 2026 میں پہلی مرتبہ 1.833 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔ صرف ایک ماہ میں 43 فیصد اضافے کے ساتھ ٹیکسٹائل شعبہ نئے مالی سال کے آغاز میں بھی پاکستان کی برآمدی معیشت کا سب سے بڑا ستون بن کر سامنے آیا۔