لندن (تھرسڈے ٹائمز) — برطانوی نیوز ایجنسی ”روئٹرز“ کے مطابق برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے مقبوضہ مغربی کنارے (فلسطین) میں اسرائیلی بستیوں سے درآمدات روکنے کے اقدامات کا اعلان کر دیا ہے جبکہ مغربی ممالک کے ایک وسیع گروپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ دو ریاستی حل کے تحفظ کیلئے مزید اقدامات بھی کر سکتے ہیں، کیونکہ علاقہ میں (غیر قانونی اسرائیلی) بستیوں کی توسیع اور تشدد کے حوالہ سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
روئٹرز کے مطابق اسرائیلی بستیوں کی پالیسی کے خلاف یہ اقدامات اِس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ ”اسرائیل کی سفارتی تنہائی“ بڑھ رہی ہے۔
برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملیبینڈ نے کہا ہے کہ برطانیہ اب صرف ”ناانصافی اور مصائب“ کی مذمت نہیں کر سکتا، بلکہ برطانیہ کو (اسرائیلی) بستیوں کی توسیع کی مخالفت کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، جن کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ یہ فلسطینی ریاست کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے ٹویٹر (ایکس) پر لکھا: ”کینیڈا کی سابقہ حکومتوں کا مؤقف رہا ہے کہ دو ریاستی حل ہی طویل مدتی امن کی راہ ہے، اور اِس سے اسرائیل کے جائز سیکیورٹی خدشات کا بھی حل نکلتا ہے۔ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیاں اِن مقاصد کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔“
روئٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی حکومت مغربی کنارے کے کچھ انتہاء پسند آبادکاروں کو مالی مدد فراہم کر رہی ہے، جو غیر قانونی چوکی فارمز کے ذریعہ فلسطینیوں کو بےدخل کر رہے ہیں۔
فرانس نے بھی مغربی کنارے کی مصنوعات پر پابندی متعارف کراتے ہوئے اِس کی وجہ وہاں بستیوں کی ”تیز رفتار توسیع اور تشدد میں اچانک اضافہ“ کو قرار دیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق بستیوں سے برآمدات کا حجم بہت کم ہونے کی وجہ سے تجارتی پابندیاں بڑی حد تک علامتی ہیں، اور یہ دوطرفہ تجارت کے بڑے حجم پر کوئی اثر نہیں ڈالیں گی۔ تاہم یہ دو ریاستی حل کیلئے حمایت کو مضبوط بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں جو ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اسرائیل نے منگل کو مغربی کنارے میں 1 ہزار نئے گھروں کے منصوبہ کا اعلان کیا ہے۔
برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کے ساتھ 10 دیگر ممالک کے وزراء خارجہ بھی شامل تھے، جن میں ڈنمارک، ناروے، پولینڈ، سپین اور سویڈن شامل ہیں۔ اُنہوں نے ایک بیان میں مذاکرات کے ذریعہ دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔
روئٹرز کے مطابق اُنہوں نے کہا کہ ”ہم سب مل کر پختہ عزم رکھتے ہیں؛ دو ریاستی حل کا تحفظ کیا جانا چاہیے، اور ہم ایک منصفانہ اور پائیدار امن کیلئے اقدامات کریں گے۔“
جولائی میں برطانیہ کے وزیرِ خارجہ بننے والے ایڈ ملیبینڈ نے اِس سے بھی آگے بڑھ کر کہا ہے کہ برطانیہ کا ماننا ہے کہ مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں فلسطینیوں کو نسلی بنیادوں پر بےدخل کیا جا رہا ہے۔
روئٹرز کے مطابق برطانوی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ”آج ہم مزید مصائب اور دو ریاستی حل کی تباہی پر خاموش تماشائی بننے سے انکار کرتے ہیں۔“




