Seven European allies have issued a rare joint statement backing Denmark and Greenland, warning that tariff threats and political pressure risk undermining transatlantic unity and Arctic security.
پاکستان کے مجوزہ غزہ پیس بورڈ میں کردار سے متعلق کوئی بھی فیصلہ سیاسی قیادت اور پارلیمنٹ کے ذریعے اجتماعی طور پر کیا جائے گا، جبکہ شمولیت کی صورت میں امن کے قیام اور انسانی امدادی کوششوں میں تعمیری کردار ادا کیا جائے گا۔
Pakistan has said any decision on joining the proposed Gaza Peace Board will be taken through its political leadership and Parliament, stressing that if included it could play a constructive and stabilising role in peace efforts and humanitarian relief in Gaza.
Pakistan has been invited to join a proposed Gaza Peace Board under Donald Trump’s post-war plan, positioning Islamabad as a key participant in discussions on ceasefire, humanitarian recovery and long-term political stability.
غزہ میں جنگ کے خاتمے، انسانی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے امریکی صدر کے مجوزہ غزہ پیس پلان کے تحت پاکستان کو امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت موصول ہونا پاکستان پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد، اس کے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور بین الاقوامی معاملات میں اس کے مؤثر کردار کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیم نے ایران سے ممکنہ مذاکرات کے لیے پسِ پردہ منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت جیسے اہم معاملات زیرِ غور ہیں، جبکہ تہران جنگ بندی، مستقبل میں حملے نہ ہونے کی ضمانت اور نقصان کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
موجودہ علاقائی کشیدگی میں پاکستان نے اشتعال انگیزی کے بجائے توازن، سفارت کاری اور داخلی استحکام کو ترجیح دی ہے۔ اصل خطرہ صرف بیرونی محاذ نہیں بلکہ فرقہ واریت، افواہوں اور داخلی تقسیم کو ہوا دینے والی کوششیں بھی ہیں، جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی داخلی یکجہتی ہے۔
انتهت الثقة في إيران بالكامل. السعودية لا تخشى المواجهة، وتحتفظ بحقها في الرد العسكري عند الضرورة. وإذا كانت طهران تعتقد أن دول الخليج لا تملك القدرة على الرد، فهي واهمة. وإيران لن تتوقف ما لم تواجه رداً قوياً وحازماً
ایران پر اعتبار ختم ہو چکا۔ سعودی عرب تصادم سے نہیں ڈرتا، ضرورت پڑنے پر فوجی جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ ایران اگر سمجھتا ہے کہ خلیجی ممالک جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ غلطی پر ہے۔ ایران مضبوط مقابلہ کا سامنا کیے بغیر نہ رُکے گا۔
Joe Kent, Director of the National Counterterrorism Center, has resigned with immediate effect, stating that he cannot support the US war in Iran, arguing that Tehran posed no imminent threat, and questioning the basis on which the conflict has been pursued.
Looking to advertise?
With our team of industry-leading experts with decades of experience in the fields of marketing, design, and journalism, we've got a person for any niche your business deals in.