پاکستان 30 مارچ کو چار ملکی اہم اجلاس کی میزبانی کرے گا جس میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے۔ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت مشاورتی اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے متعلق اہم پیش رفت متوقع ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی درخواست پر ایران کی انرجی تنصیبات کی تباہی کیلئے امریکی حملے مزید 10 روز تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان پسِ پردہ سفارتی روابط میں اہم کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
سِکھوں اور پاکستان کے درمیان ناخن اور گوشت کا رشتہ ہے، دنیا کے ہر سِکھ کا پہلا گھر پاکستان ہے۔ بھارت میں کانگریس اور بی جے پی کے ہاتھ اقلیتوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، سِکھ 1984 نہیں بھول سکتے، پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو مکمل تحفظ و مذہبی آزادی حاصل ہے۔ وزیرِ اقلیتی امور پنجاب رمیش سنگھ اروڑا
پاکستان ایران بحران میں خاموش مگر اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے، وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی قیادت سے گفتگو اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی علاقائی سطح پر سرگرمیوں نے اسلام آباد کو ایک ممکنہ ثالثی مرکز کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔ پاکستان بظاہر جنگ کے بجائے بات چیت، رابطے اور کشیدگی میں کمی کی راہ کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
جامعۃ الرشید (کراچی) کے مہتمم مفتی عبدالرحیم کیمطابق پاکستان نے مُلّا یعقوب کو طالبان امیر مقرر کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد مُلّا یعقوب 5 لاکھ ڈالرز کے عوض طالبان قیادت سے دستبردار ہو گئے۔ پاکستان نے اُن کی بجائے مُلّا اختر منصور کو طالبان کی قیادت سونپ دی۔
پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کی صَف اَوَّل میں کھڑا ہو گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے قریبی تعلقات اور امریکا ایران تنازع میں اسلام آباد کی مؤثر سفارتکاری نے پاکستان کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ اِن حالات میں عمران خان کی واپسی کے امکانات کمزور ہوتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ فی الحال نظام تبدیل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
Pakistan’s role in securing the US-Iran ceasefire has opened a narrow but important window for peace, projecting Islamabad as a credible mediator. Yet the ceasefire is only a pause, and Pakistan’s test now lies in turning this diplomatic breakthrough into lasting regional, domestic, and economic gains.
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں آخری لمحوں میں تقریباً ناکامی کے دہانے پر پہنچ چکی تھیں، مگر پاکستان نے رات بھر کی سفارت کاری سے نہ صرف جنگ بندی بچانے میں مدد دی بلکہ واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی راہ پر بھی گامزن کردیا۔
India’s Congress has welcomed the West Asia ceasefire but says BJP blunders weakened New Delhi and opened diplomatic space for Pakistan to emerge as a mediator. The statement is a rare public sign that Pakistan’s regional role is now being debated inside India itself.
وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو، ایران نے رواں ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کر دی۔ مسعود پزشکیان نے عارضی جنگ بندی میں پاکستانی کوششوں کو سراہا اور پاکستانی عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
Looking to advertise?
With our team of industry-leading experts with decades of experience in the fields of marketing, design, and journalism, we've got a person for any niche your business deals in.