پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافے کے ساتھ، آئی ٹی برآمدات مالی سال 2023-24 کے دوران 24 فیصد بڑھ کر 3.2 بلین ڈالر کی تاریخی سطح تک پہنچ گئی ہیں۔ آئندہ سالوں کے لیے طے شدہ اہداف کے ساتھ، پاکستان کا آئی ٹی شعبہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرتے ہوئے ملکی اقتصادی استحکام اور ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ نئے بجٹ میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو فروغ دینے کیلئے سنتھیٹک فلامنٹ یارن پر 5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کی جا رہی ہے اور اسی طرح پیٹ سکریپ پر بھی کسٹم ڈیوٹی کو 20 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کیا جا رہا ہے جبکہ کپیسیٹرز، ایدھیسیو ٹیپ، مائننگ مشینری، رائس مل مشینری اور مشین ٹولز کے مینوفیکچررز کو بھی کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.
Prime Minister Shehbaz Sharif says Pakistan has received Iran’s response, signalling that Islamabad’s mediation channel remains active as regional diplomacy enters a sensitive phase.
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث عوام سراپا احتجاج، وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا۔ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔