اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — سابق افغان فوجی جنرل نے افغان طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کا اعلان کرتے ہوئے امریکا اور نیٹو سے مدد کی درخواست کر دی۔
سابق افغان جنرل اور ”افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ“ نامی مسلح گروہ کے سربراہ سمیع سادات نے اتوار کے روز ایک ویڈیو بیان میں اعلان کیا کہ اُنہیں افغان طالبان حکومت کے خلاف جنگی کارروائیاں شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
افغان فوجی وردی میں ملبوس سمیع سادات نے کہا کہ طالبان حکومت کے ارکان، اڈوں اور قیادت کو نشانہ بنانے کے ساتھ جنگی کارروائیوں کے پہلے مرحلہ کا آغاز ہو چکا ہے۔ اُنہوں نے القاعدہ، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، اسلامک سٹیٹ اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے خلاف بھی جنگ کا اعلان کیا۔
سابق افغان جنرل نے ویڈیو بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعہ کسی تصفیہ تک پہنچنے کا خیال مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کا مقصد 2004 کے آئین اور لویہ جرگہ کے تحت آزاد اور آئینی افغانستان کی بحالی ہے۔
سربراہ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ سمیع سادات نے اپنے ویڈیو بیان میں امریکا اور نیٹو سے مدد کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ اِس مشکل وقت میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کو سیاسی اور مادی تعاون فراہم کریں۔




