امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ غزہ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی تنازعات تک وسعت کی تجویز بھارت کیلئے کشمیر کے حوالہ سے پریشان کُن ثابت ہو سکتی ہے۔
There is a certain discipline in Ahmed Sharif’s choice of words as of late. Melodrama is avoided, but denial is not indulged either. If Pakistan is to argue its case internationally, he suggests that it must first lay out its qualms.
بھارت میں نریندر مودی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد مذہبی اقلیتوں کے خلاف پُرتشدد و نفرت انگیز واقعات میں اضافہ ہوا۔ مسلمانوں پر متشدد حملوں کے بعد اب کرسچین کمیونٹی بھی ہندو انتہا پسندوں کی نفرت کا شکار ہے جبکہ مودی ایسے واقعات کی مذمت تک نہیں کرتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں اسلام آباد نے واشنگٹن میں مؤثر تزویراتی واپسی اور قابلِ اعتماد شراکت داری کو یقینی بنایا ہے جبکہ یہ صورتحال بھارت کیلئے پریشان کن ہے، ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر کیلئے ذاتی رغبت کے باعث پاک امریکا تعلقات کو تقویت ملی ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر رسمی سفارتی انداز کے ساتھ تیزی سے ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے بیک وقت واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران تک روابط برقرار رکھے ہیں جبکہ بھارت اِس بدلتے سفارتی منظر نامہ پر بےچینی محسوس کر رہا ہے۔
پاکستان سعودی عرب دفاعی شراکت داری میں ترکیہ کی شمولیت متوقع؛ جنگی تجربات رکھنے والی افواج کے حامل پاکستان کا کردار کلیدی ہے، جنوبی ایشائی ایٹمی طاقت کسی بھی شراکت داری کو مضبوط دفاعی ساکھ فراہم کرتی ہے۔
Pakistan has emerged as a founding member of President Donald Trump’s Board of Peace, a new diplomatic body unveiled at Davos to oversee Gaza’s post-war security, reconstruction and political transition.
گوادر کو جدید اور عالمی معیار کا ساحلی شہر بنانے کیلئے اقدامات و منصوبوں سے متعلق ’’پاتھ ویز ٹو پروگریسیو گوادر 2026‘‘ سیمینار و نمائش کا انعقاد؛ گوادر کو جدید بندرگاہ اور عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے کا سٹریٹیجک ذریعہ بنانے میں اہم سنگِ میل عبور
After two decades of stalled talks, the European Union and India have sealed a sweeping free trade agreement designed to cut tariffs, expand market access and reshape their strategic partnership.
وادی تیراہ سے متعلق سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔ مفاد پرست عناصر نے مشاورتی عمل سے طے پانے والے معاملات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جبکہ انتظامی امور میں مجرمانہ غفلت نے بھی منفی کردار ادا کیا۔