Pakistan’s KSE 100 index hits a new record with 94,000 points, signalling robust economic confidence. Trading volumes soar as investors drive the market upward.
کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رجحان، 100 انڈیکس نے 94,000 پوائنٹس کی بلند سطح پر پہنچ کر ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ اس مستحکم صورتحال کو معیشت کی بحالی اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتہ کے آخری روز بھی زبردست تیزی، 100 انڈکس نے 93,000 ریکارڈ پوائنٹس کی سطح عبور کرلی۔ سٹاک مارکیٹ 400 سے زائد پوائنٹس اضافہ کیساتھ 93,000 پوائنٹس کی سطح عبور کرگئی۔
Trump’s election sparks a historic Wall Street and crypto rally, with banks, small-cap stocks, digital assets, and energy firms gaining from expected deregulation and pro-business policies.
Property brokerage Driven Properties has finalised the largest real estate deal Downtown Dubai for the fiscal year of 2024, acquiring Emaar Square Building 3 for 505 million dirhams.
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، خطہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال، پاکستان کی جانب سے مشکل حالات میں سعودی عرب کیلئے مکمل یکجہتی و حمایت کا اظہار، وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کیساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا
علاقائی کشیدگی اور غیر معمولی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے ماحول میں پاکستان کا سفارتی محاذ پر مضبوط کردار، ڈیجیٹل میدان میں 5 جی کی نیلامی، مغربی سرحد پر مؤثر حکمتِ عملی اور خطہ میں امن و استحکام کیلئے باوقار اقدامات اندرونی و بیرونی سطح پر مضبوط تاثر پیدا کر رہے ہیں۔
Pakistan has publicly condemned attacks on Iran and on Gulf states, while insisting that the region cannot be stabilised through force. Islamabad says the only serious path forward is restraint, de-escalation and talks.
امریکی انٹیلیجنس کے مطابق امریکا و اسرائیل کی 2 ہفتوں سے جاری شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت کا مُلک پر کنٹرول برقرار ہے۔ موجودہ ایرانی نظام کے انہدام کیلئے زمینی کارروائی درکار ہو گی، ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق امریکی فوج بھیجنا خارج از امکان نہیں۔
أكدت باكستان أنها ستقف إلى جانب السعودية في حال وقوع هجمات إيرانية، مهما كانت الظروف ومهما كان التوقيت. وبحسب بلومبرغ، فإن العلاقة بين الرياض وإسلام آباد قامت دائماً على مبدأ الوقوف المشترك في أوقات الأزمات والتحديات.