اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی سے دوحہ پر کیے گئے اسرائیلی حملے پر باقاعدہ معذرت کرلی۔۔ یہ ٹیلی فونک گفتگو اس وقت ہوئی جب نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر رہے تھے۔
نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قطر کی خودمختاری اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کاسلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے، انسانی حقوق کونسل میں فوری بحث اور دوحہ میں غیر معمولی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی حمایت کا اعلان۔
عمران خان کی پارٹی نے فلسطین پر آل پارٹیز کانفرنس کا بائیکاٹ کیا، کیا لیڈر سیاسی مفادات کیلئے اس قدر اہم سفارتی معاملہ بھی نظر انداز کر سکتا ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان اسرائیل کے ساتھ سیاسی شطرنج کی اگلی چال تیار کر رہے ہیں۔ کیا فلسطین کی حمایت صرف اس وقت اہمیت رکھتی ہے جب عمران خان تخت پر ہوں؟
اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی سے روکنا ہو گا، اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی اور تجارت پر پابندیاں عائد کی جائیں، اسرائیلی قیادت کو اسکے جرائم پر قابلِ گرفت ٹھہرایا جائے، سلامتی کونسل جموں و کشمیر کے بگڑتے تنازع کو مزید نظر انداز نہیں کر سکتی۔
عمران خان وہ لیڈر ہیں جو پاکستان اور اسرائیل کے مابین تعلقات کیلئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، عمران خان بطور وزیراعظم پاکستانی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دے چکے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بن کر پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
أكدت باكستان أنها ستقف إلى جانب السعودية في حال وقوع هجمات إيرانية، مهما كانت الظروف ومهما كان التوقيت. وبحسب بلومبرغ، فإن العلاقة بين الرياض وإسلام آباد قامت دائماً على مبدأ الوقوف المشترك في أوقات الأزمات والتحديات.
سعودی وزیرِ خارجہ کے پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور روسی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطے، خطہ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب گفتگو میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے سفارتی روابط اور سیاسی مشاورت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی حملوں کی صورت میں سعودی عرب کی مدد ضرور کرے گا، پھر چاہے جو بھی حالات ہوں اور وقت کوئی بھی ہو۔ پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ اِس اصول پر عمل کرتے رہے ہیں کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
Pakistan has moved to shut down the impression of informal peace talks with the Afghan Taliban, insisting that there will be no dialogue without concrete and verifiable action against cross-border militancy.