ایران امریکا جنگ، تہران تک پیغام رسانی میں پاکستان کے ابھرتے کردار اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی فوری کوششوں کے درمیان سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اسلام آباد آنا اس ملاقات کو معمول کی سفارتکاری سے کہیں زیادہ اہم بنا رہا ہے۔
پاکستان 30 مارچ کو چار ملکی اہم اجلاس کی میزبانی کرے گا جس میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے۔ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت مشاورتی اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے متعلق اہم پیش رفت متوقع ہے۔
امریکا ایران جنگ بندی کیلئے پاکستان کے سفارتی کردار اور ثالثی کی پیشکش نے بھارت کیلئے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے تو پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔
امریکا کی 15 نکاتی تجویز پاکستانی ثالثی کے ذریعہ تہران پہنچا دی گئی جس کا مقصد ایران کے خلاف جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔ اسلام آباد ایک بااعتماد سفارتی چینل کی حیثیت اختیار کر چکا جس کے ذریعہ واشنگٹن اور تہران کے مابین کشیدگی کم کرنے کا راستہ نکالا جا رہا ہے۔
پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کیلئے پس پردہ سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے، شہباز شریف کی تہران سے گفتگو، اور اسحاق ڈار کی علاقائی سفارت کاری نے اسلام آباد کو ایک ممکنہ مذاکراتی مرکز کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔
Prime Minister Shehbaz Sharif has signed the Islamabad MoU as mediator after Donald Trump and Masoud Pezeshkian endorsed the US-Iran agreement aimed at ending hostilities and reopening the Strait of Hormuz.
Shehbaz Sharif says the Islamabad MoU between the United States and Iran has taken immediate effect, with Iran set to reopen the Strait of Hormuz and Washington to lift its naval blockade.
JD Vance says Pakistan and Qatar helped mediate the US-Iran agreement and asked Washington to delay releasing the full text briefly, with publication expected by Friday.