پاکستان کی امن کوششیں اور بڑھتی سفارتی اہمیت، ایران جنگ میں ثالثی بھارت کے لیے سفارتی دھچکا، جریدہ فارن پالیسی

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے، جس سے خطے میں اس کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف بھارت کے بیانیے کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک بار پھر نمایاں مقام بھی دے رہی ہے۔

واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — جب بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان پیغام رسانی کرنے پر “دلال” یا “فکسر” کہا، تو یہ محض ایک سخت جملہ نہیں تھا بلکہ اس کے اندر ایک گہری سفارتی بے چینی بھی چھپی ہوئی تھی۔ درحقیقت یہ ردعمل اس بات کا غیر ارادی اعتراف بھی تھا کہ بدلتے ہوئے علاقائی منظرنامے میں پاکستان کو ایک بار پھر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔ فارن پالیسی میگزین کے مطابق جو کردار نئی دہلی حقارت سے دیکھنا چاہتی ہے، وہی کردار آج واشنگٹن، تہران اور خطے کے دیگر دارالحکومتوں میں پاکستان کو ایک نئی عملی اہمیت دے رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست ہمیشہ لین دین، فوری نتائج اور ذاتی سطح پر قابلِ استعمال تعلقات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اسی لیے اگر انہیں پاکستان میں کوئی ایسا رابطہ کار دکھائی دیتا ہے جو طاقت کی زبان بھی سمجھتا ہو، حساس معاملات تک رسائی بھی رکھتا ہو، اور خود کو ایک مفید ثالث کے طور پر بھی پیش کر سکتا ہو، تو واشنگٹن کے لیے وہ توہین کا نہیں بلکہ افادیت کا کردار بن جاتا ہے۔ فارن پالیسی میگزین کے مطابق یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان نے اپنی داخلی کمزوریوں کے باوجود ایک ایسی جگہ بنا لی ہے جسے بھارت برسوں کی محنت سے بند کرنا چاہتا تھا۔

فارن پالیسی میگزین لکھتا ہے کہ پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں خود کو امریکہ اور ایران کے درمیان ایک قابلِ عمل، محتاط اور نسبتاً غیر جانب دار رابطہ کار کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسلام آباد میں 29 مارچ کو مصر، ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والی بات چیت ہو، یا پھر اس کے فوراً بعد بیجنگ میں پاکستان اور چین کی سطح پر سامنے آنے والا پانچ نکاتی امن خاکہ، ان تمام پیش رفتوں نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ پاکستان محض بیانات نہیں دے رہا بلکہ ایک ایسے سفارتی عمل کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہے جو براہِ راست دشمنی کو بات چیت میں بدل سکے۔ پاکستانی نقطۂ نظر سے یہ محض ایک وقتی سرگرمی نہیں بلکہ اس خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے جو خود کو خطے میں رابطے، توازن اور بحران مینجمنٹ کے مرکز کے طور پر منوانا چاہتی ہے۔

فارن پالیسی میگزین کے مطابق یہاں پاکستان کی اصل کامیابی یہ ہے کہ اس نے ایک ایسے وقت میں سفارتی مطابقت پیدا کی ہے جب اس کی معیشت کمزور ہے، سیاسی ڈھانچہ مکمل استحکام سے دور ہے، اور دنیا کے کئی حلقے اسے طویل عرصے سے ایک مسائل زدہ ریاست کے طور پر دیکھتے آئے ہیں۔ اس کے باوجود، اگر اسلام آباد ایک طرف تہران سے رابطہ رکھ سکتا ہے، دوسری طرف واشنگٹن کے ساتھ راستہ کھلا رکھ سکتا ہے، ساتھ ہی چین کے ساتھ اپنی سٹریٹجک سمجھ بوجھ برقرار رکھ سکتا ہے، اور عرب طاقتوں کے ساتھ بھی عملی مشاورت کر سکتا ہے، تو یہ پاکستان کے لیے معمولی پیش رفت نہیں۔ فارن پالیسی میگزین کے مطابق بھارت نے پاکستان کو سفارتی طور پر الگ تھلگ کرنے کی جو کوشش برسوں کی، موجودہ بحران نے اس کی حدود واضح کر دی ہیں۔

پاکستان کے لیے اس وقت سب سے بڑی طاقت اس کی جغرافیائی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کی کثیر جہتی سفارت کاری ہے۔ فارن پالیسی میگزین لکھتا ہے کہ ایک طرف چین کے ساتھ اس کے تعلقات مسلسل مضبوط ہوئے ہیں، دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ اس کی سٹریٹیجک شراکت داری زیادہ منظم انداز میں سامنے آئی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ بھی ایسے شعبوں میں مشترک مفادات پیدا ہوئے ہیں جہاں سرحدی سلامتی اور بلوچستان سے متعلق خدشات اہم ہیں۔ اس وسیع تر تناظر میں پاکستان نے خود کو کسی ایک بلاک کا اندھا ساتھی بنانے کے بجائے ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا ہے جو مختلف طاقت مراکز کے درمیان بیک وقت رابطہ رکھ سکتا ہے۔ فارن پالیسی میگزین لکھتا ہے کہ کہ پاکستان کی اصل قدر اس کے نعروں میں نہیں بلکہ اس کی دستیابی، رسائی اور رابطہ کاری کی صلاحیت میں ہے۔

فارن پالیسی میگزین کے مطابق اس ساری تصویر میں بھارت کی بے چینی قابلِ فہم ہے۔ نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی مقصد یہ رہا ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر غیر متعلقہ بنا دیا جائے، جبکہ بھارت خود کو ایک ناگزیر ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر منوائے۔ لیکن موجودہ بحران نے کم از کم عارضی طور پر اس بیانیے کو جھٹکا دیا ہے۔ اگر ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہو، مشرقِ وسطیٰ نئی صف بندیوں کی طرف بڑھ رہا ہو، اور واشنگٹن فوری عملی حکمتِ عملی ضرورتوں کی بنیاد پر فیصلے کر رہا ہو، پاکستان ایک فعال رابطہ کار کے طور پر سامنے آتا ہے، تو یہ نئی دہلی کے لیے یقیناً ناخوشگوار حقیقت ہے۔ پاکستانی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ صرف بھارت کی ناکامی نہیں بلکہ اسلام آباد کی اس صلاحیت کا ثبوت بھی ہے کہ وہ بحران کے لمحے میں اپنی افادیت کو سفارتی وزن میں بدل سکتا ہے۔

پاکستان کی اس کوشش میں عسکری قیادت اور سیاسی قیادت دونوں کا کردار اہم دکھائی دیتا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سفارتی سطح پر متحرک موجودگی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پسِ پردہ روابط کے بارے میں جو باتیں زیرِ گردش رہی ہیں، انہوں نے اس تاثر کو مضبوط کیا ہے کہ پاکستان اس بار صرف تماشائی نہیں بلکہ معاملے کے اندر موجود ہے۔ فارن پالیسی جریدے کے مضمون میں بھی یہ بات ابھرتی ہے کہ پاکستان کی موجودہ سفارتی اٹھان بڑی حد تک اسی حقیقت سے جڑی ہے کہ وہ طاقت کے اصل مراکز تک رسائی رکھتا ہے اور ان قوتوں کے لیے ایک ایسا درمیانی رابطہ کار بن سکتا ہے جو رسمی بیانات سے آگے جا کر عملی رابطے کو ممکن بنائے۔

فارن پالیسی میگزین کے مطابق اسلام آباد میں مصر، ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کی حمایت میں مشاورت اور اس کے ساتھ آبنائے ہرمز کے تناظر میں ایران کے ساتھ پاکستانی جہازوں کی آمدورفت پر پیش رفت، اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان نے سفارت کاری کو صرف سیاسی نعرہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے تجارتی، بحری اور سلامتی کے معاملات سے جوڑ کر ایک بڑی علاقائی تصویر کا حصہ بنایا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کا کردار صرف ایک پیغام رساں کا نہیں بلکہ ایک سہولت فراہم کرنے والے کا بنتا ہے۔ اور یہی وہ فرق ہے جسے فارن پالیسی جریدے کے تجزیے نے بھی اجاگر کیا کہ پاکستان اس وقت محض باتیں نہیں کر رہا بلکہ مختلف قوتوں کے درمیان عملی سطح پر گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس سب کے باوجود پاکستان کے لیے خطرات بہت حقیقی ہیں۔ کسی بھی متحارب ماحول میں ثالثی کا کردار اپنانا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوں تو ثالث پر بداعتمادی بھی آ سکتی ہے، اسے الزام بھی دیا جا سکتا ہے، اور بعض اوقات دونوں فریق اسے اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کے بعد چھوڑ بھی سکتے ہیں۔ ٹرمپ جیسے سودے بازی کے انداز کے رہنما کے ساتھ معاملہ ہو تو یہ خطرہ اور زیادہ بڑھ جاتا ہے، کیونکہ وہاں پسندیدہ درمیانی رابطہ کار اور غیر ضروری اثاثے کے درمیان فاصلہ بہت کم ہوتا ہے۔ پاکستانی نقطۂ نظر سے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ موجودہ سفارتی سرگرمی جتنی بڑی کامیابی محسوس ہوتی ہے، اتنی ہی نازک بھی ہے۔ یہ کردار پاکستان کو عزت بھی دے سکتا ہے اور ناکامی کی صورت میں مشکل پوزیشن میں بھی لا سکتا ہے۔

لیکن یہ خطرات اس حقیقت کو کم نہیں کرتے کہ پاکستان نے ایک بار پھر دکھایا ہے کہ خطے میں اسے مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 1971 میں امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ سفارتی راستہ کھولنے میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا تھا، اس کی بازگشت آج کے منظرنامے میں بھی سنائی دیتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج سرد جنگ والا ماحول نہیں بلکہ ایک منتشر، کئی سطحوں پر بٹا ہوا عالمی نظام ہے، جہاں کمزور سمجھی جانے والی ریاستیں بھی اگر صحیح وقت پر صحیح جگہ کھڑی ہوں تو اہم بن سکتی ہیں۔ پاکستان اسی اصول پر ایک بار پھر اپنی اہمیت منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات کے بارے میں جو رومانوی تصور نئی دہلی میں برسوں سے پیش کیا جاتا رہا، موجودہ حالات نے اسے بھی کافی حد تک کمزور کیا ہے۔ اگر واشنگٹن بھارت کو ایک مستقل تزویراتی سہارا سمجھتا تو ایسی صورت حال میں جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے اس باہم جڑے بحران میں نئی دہلی کو زیادہ مرکزی حیثیت حاصل ہوتی۔ اس کے برعکس، جو تاثر ابھر رہا ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ فوری عملی ضرورتوں کے مطابق اپنی ترجیحات بدلنے کے لیے تیار ہے۔ اگر پاکستان اس مرحلے پر مفید ثابت ہوتا ہے، تو واشنگٹن اسے استعمال کرے گا۔ فارن پالیسی جریدے کے استدلال کا مرکزی وزن بھی اسی نکتے پر ہے کہ طاقت کی موجودہ سیاست میں نظریاتی قربت سے زیادہ اہم وہ فریق ہوتا ہے جو عملی نتیجہ دے سکے۔

پاکستانی تناظر میں یہ لمحہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس نے بھارت کے اس دعوے کو چیلنج کیا ہے کہ پاکستان خطے میں صرف ایک مسئلہ ہے، حل کا حصہ نہیں۔ اس بحران میں پاکستان کم از کم اتنا ضرور ثابت کرنے میں کامیاب ہوا ہے کہ وہ صرف ردعمل دینے والی ریاست نہیں بلکہ بعض حالات میں ایجنڈا متعین کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اگر وہ ایران سے بات کر سکتا ہے، عرب طاقتوں کو ایک میز پر لا سکتا ہے، چین کے ساتھ مشترکہ امن خاکہ جاری کر سکتا ہے، اور امریکہ کے ساتھ بھی رابطہ قائم رکھ سکتا ہے، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اب بھی وہ لچک موجود ہے جو اسے علاقائی حرکیات میں جگہ دلوا سکتی ہے۔

بھارت کے لیے اصل مشکل شاید یہی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان کامل یا بے عیب ہو گیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود اس لمحے میں زیادہ کارآمد دکھائی دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی کے بیانیے میں کھنچاؤ اور تلخی بڑھ رہی ہے۔ مگر پاکستانی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ محض ردعمل کا وقت نہیں بلکہ محتاط اعتماد کا لمحہ ہے۔ اسلام آباد کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر اس نے اس کردار کو سنجیدگی، احتیاط اور مستقل مزاجی سے نبھایا تو وہ صرف ایک بحران کا حصہ نہیں رہے گا بلکہ ایک بڑے علاقائی سفارتی معمار کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

فارن پالیسی میگزین کے مطابق پاکستان نے ایک ایسی گھڑی میں، جب سب کچھ اس کے خلاف ہونا چاہیے تھا، اپنے لیے ایک نئی جگہ بنا لی ہے۔ یہ جگہ مستقل ہوگی یا عارضی، اس کا فیصلہ آنے والے ہفتے اور مہینے کریں گے۔ مگر فی الحال ایک حقیقت واضح ہے: مودی کی پاکستان کو سفارتی طور پر غیر متعلقہ بنانے کی کوشش کو شدید دھچکا پہنچا ہے، جبکہ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ عالمی سیاست میں اہمیت صرف معاشی طاقت سے نہیں، بعض اوقات جغرافیہ، رسائی، عسکری ساکھ اور بروقت سفارت کاری سے بھی پیدا کی جاتی ہے۔

پاکستان کے لیے اب سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ اس موقع کو محض وقتی شہ سرخی تک محدود رکھتا ہے یا اسے ایک زیادہ پائیدار سفارتی سمت میں ڈھالتا ہے۔ اگر اسلام آباد اپنی موجودہ سفارتی پیش رفت کو سنبھالنے میں کامیاب رہا تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ وسیع تر ایشیائی طاقت کی سیاست میں بھی اس کی جگہ مضبوط کر سکتا ہے۔ اور اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی حالیہ تاریخ کے اہم ترین موڑوں میں سے ایک شمار ہوگا۔

خبریں

More from The Thursday Times

More from The Thursday Times

The latest stories from The Thursday Times, straight to your inbox.

Thursday PULSE™

error: