پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی حالیہ وارداتیں ہائبرڈ جنگ کی منظم لہریں اور بھارتی ’’آپریشن سندور‘‘ کا تسلسل دکھائی دیتی ہیں۔ ملکی بقاء اور سلامتی کیلئے دشمن قوتوں کے عزائم کو شکست دینا ہو گی جس کیلئے قومی اتحاد، مسلسل و مؤثر ریاستی پالیسیز اور سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
دہشتگردی ہندوستان کا وطیرہ ہے، ہم دشمن کو چھپ کر نہیں بلکہ للکار کر مارتے ہیں۔ معرکہِ حق میں اللّٰه کی مدد و نصرت سے فتح ملی۔ تمام مسلم ممالک میں سے حفاظتِ حرمین کا شرف پاکستان کو حاصل ہوا، دفاعی معاہدہ تاریخی ہے۔
Speaking to religious scholars in Islamabad, Prime Minister Shehbaz Sharif said Pakistan will not progress through “magic” or shortcuts but through hard work, unity and respect for the armed forces. He hailed the army’s performance against India, urged clerics to fight sectarianism and argued that tough decisions by political and military leaders have helped pull the economy back from the edge of default.
پاکستان نہ جادو ٹونے سے آگے بڑھ سکتا ہے، نہ انتشار اور فرقہ واریت کے سہارے۔ اس کے لیے سخت محنت اور قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔ بھارت کے خلاف معرکۂ حق میں افواجِ پاکستان کی جرات مندانہ فتح نہ صرف پوری قوم بلکہ ہمارے دوست اور برادر ممالک کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔ فوج کے خلاف ہونے والے ہر پراپیگنڈے کا مؤثر جواب دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے ایک روزہ دورے کے بعد صرف چوبیس گھنٹے میں دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس سے پاکستان کا کردار تیز رفتار علاقائی سفارت کاری میں مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ ان کی فوری واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب ایک اہم اور ممکنہ طور پر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
Iran’s Abbas Araghchi is back in Islamabad within around 24 hours of leaving for Muscat, keeping Pakistan at the centre of high-stakes US-Iran diplomacy.
Trump has cancelled his representatives’ planned trip to Islamabad for talks with Iran, saying too much time was being spent on travel and that Tehran can contact Washington directly if it wants negotiations.
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اہم ملاقات۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتا ہے،مذاکرات میں جنگ بندی، علاقائی امن اور پاک ایران تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met Prime Minister Shehbaz Sharif in Islamabad, describing Pakistan as holding a significant place in Tehran’s foreign policy outlook while briefing Pakistan’s leadership on ceasefire developments, regional stability and bilateral cooperation.