Davos was not a redemption arc but a stress test. Pakistan did not arrive seeking applause or indulgence, but to demonstrate whether discipline could finally replace denial. What mattered was constraint—and the recognition that the old escape routes no longer exist.
Ten years after Lahore’s birthday stopover, a portrait of Nawaz Sharif as the rare Pakistani leader who pursued peace with India and Afghanistan while insisting minorities belonged at the centre of the nation.
پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کا سلسلہ جاری ہے، خیبرپختونخوا کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کا سابق وزیرِ اعلیٰ محاذ آرائی میں مصروف رہتا تھا، موجودہ وزیرِ اعلیٰ اڈیالہ جیل کے باہر نظر آتا ہے۔ پاکستان کی ہر فتح اور کامیابی پر نواز شریف اور شہباز شریف کی مہر ثبت ہے۔
ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والے خود الیکشن میں حصہ لے کر ہار گئے۔ پاکستان 2017 میں ترقی کی راہ پر گامزن تھا، ہمارے بعد ملک کا ستیاناس کر دیا گیا۔ عمران خان اکیلا مجرم نہیں، اسے لانے والے بھی برابر شریک ہیں، اُنکا بھی حساب ہونا چاہیے۔
ضمنی الیکشن میں عوام نے نفرت، انتشار، بدتمیزی اور الزام تراشی کی سیاست کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ موروثی سیاست کا طعنہ دینے والے خود بیویوں، بھائیوں، رشتہ داروں کو امیدوار بناتے رہے، شکست کے بعد اسے بائیکاٹ کا نتیجہ قرار دیا۔ نواز شریف کی سیاست ختم کرنے والے خود تاریخ کا حصہ بن گئے، نواز شریف تاریخ رقم کر رہے ہیں۔
Pakistan has moved to shut down the impression of informal peace talks with the Afghan Taliban, insisting that there will be no dialogue without concrete and verifiable action against cross-border militancy.
The Diplomat’s piece rests on Ajmal Sohail’s unverified claims, presenting a politically situated Afghan figure as a neutral expert while offering no credible independent evidence for its most serious allegations. It also fails the basic logic test: Pakistan’s all-weather partnership with China makes the claim that Islamabad is targeting Chinese interests extremely difficult to sustain.
قطر سمیت خلیجی و عرب ممالک پر ایرانی حملے بلاجواز ہیں جن کی منصوبہ بندی پہلے سے کی جا چکی تھی۔ ایران نے قطر میں سویلین و انرجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو خطرناک و غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔ ایران کے غلط اندازوں نے اعتماد سمیت سب کچھ تباہ کر دیا۔
ایران کی مجلسِ خبرگان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کا اعلان کر دیا۔ وہ ایک ایسے جنگی ماحول میں اقتدار سنبھال رہے ہیں جب ریاستی نظام اپنی بقاء کیلئے سب کچھ داؤ پر لگا چکا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ریاستی اداروں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والی سخت گیر شخصیت کے حامل ہیں۔