حماس نے صدر ٹرمپ کی امن تجویز پر مشروط رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قیدیوں کے تبادلے اور غزہ کی انتظامیہ ایک آزاد فلسطینی ادارے کو منتقل کرنے پر تیار ہے، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ غزہ کے مستقبل اور فلسطینی عوام کے حقوق کا تعین قومی اتفاق رائے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔
Prime Minister Shehbaz Sharif at the UN General Assembly claimed Pakistan’s military success over India including the downing of seven jets and offered comprehensive peace talks while pledging support for a Palestinian state and calling for recognition of Pakistan’s sacrifices against terrorism presenting Pakistan as both a security bulwark and a bridge for regional peace.
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابی اور سات بھارتی طیارے مار گرائے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب خطے میں امن جیتنا چاہتا ہے۔ فلسطین کیلئے دوٹوک حمایت، بھارت کو بامقصد اور جامع مذاکرات کی پیشکش، اور انسدادِ دہشت گردی میں پاکستان کی قربانیوں کے عالمی اعتراف کا مطالبہ۔
نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے اسرائیل کے فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قطر کی خودمختاری اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کاسلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے، انسانی حقوق کونسل میں فوری بحث اور دوحہ میں غیر معمولی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی حمایت کا اعلان۔
عمران خان کی پارٹی نے فلسطین پر آل پارٹیز کانفرنس کا بائیکاٹ کیا، کیا لیڈر سیاسی مفادات کیلئے اس قدر اہم سفارتی معاملہ بھی نظر انداز کر سکتا ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان اسرائیل کے ساتھ سیاسی شطرنج کی اگلی چال تیار کر رہے ہیں۔ کیا فلسطین کی حمایت صرف اس وقت اہمیت رکھتی ہے جب عمران خان تخت پر ہوں؟
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.