پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کر لیا۔ اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ جب تک افغان سرزمین سے سرحد پار دہشتگردی میں ملوث عناصر کی پناہ گاہیں اور پشت پناہی ختم نہیں ہوتی تب تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پاکستان کو افغانستان میں اپنی فوجی کارروائی ختم کرنے کی کوئی جلدی نہیں اور یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک سرحد پار سے پاکستان کو نشانہ بنانے والے گروہ قابلِ تصدیق طور پر غیر مؤثر ثابت نہ ہو جائیں۔
اگلا نمبر پاکستان کا تاثر گمراہ کن ہے۔ آپریشن ضرب للحق افغان طالبان کی دہشت گرد سہولت کاری اور دہشت گرد سہولت کاروں کے خلاف جاری رہے گا۔ پاکستان اپنے دفاع اور علاقائی سفارت کاری پر پُرعزم ہے۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے طالبان حکومت کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہوگی اور “دما دم مست قلندر” ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی بلکہ ہمسایہ ہونے کے ناتے زمینی حقائق اور حالات سے پوری طرح واقف ہے اور تمہاری اوقات بھی جانتی ہے۔
ایران کے سینئر سکیورٹی مشیر نے ٹرمپ کے مداخلت کے اشارے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی قومی سلامتی “ریڈ لائن” ہے، اور کسی بھی “مداخلت پسند ہاتھ” کو “افسوس ناک انجام” کا سامنا کرنا پڑے گا۔
أكدت باكستان أنها ستقف إلى جانب السعودية في حال وقوع هجمات إيرانية، مهما كانت الظروف ومهما كان التوقيت. وبحسب بلومبرغ، فإن العلاقة بين الرياض وإسلام آباد قامت دائماً على مبدأ الوقوف المشترك في أوقات الأزمات والتحديات.
سعودی وزیرِ خارجہ کے پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور روسی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطے، خطہ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب گفتگو میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے سفارتی روابط اور سیاسی مشاورت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی حملوں کی صورت میں سعودی عرب کی مدد ضرور کرے گا، پھر چاہے جو بھی حالات ہوں اور وقت کوئی بھی ہو۔ پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ اِس اصول پر عمل کرتے رہے ہیں کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
Pakistan has moved to shut down the impression of informal peace talks with the Afghan Taliban, insisting that there will be no dialogue without concrete and verifiable action against cross-border militancy.