پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کا سلسلہ جاری ہے، خیبرپختونخوا کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کا سابق وزیرِ اعلیٰ محاذ آرائی میں مصروف رہتا تھا، موجودہ وزیرِ اعلیٰ اڈیالہ جیل کے باہر نظر آتا ہے۔ پاکستان کی ہر فتح اور کامیابی پر نواز شریف اور شہباز شریف کی مہر ثبت ہے۔
ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والے خود الیکشن میں حصہ لے کر ہار گئے۔ پاکستان 2017 میں ترقی کی راہ پر گامزن تھا، ہمارے بعد ملک کا ستیاناس کر دیا گیا۔ عمران خان اکیلا مجرم نہیں، اسے لانے والے بھی برابر شریک ہیں، اُنکا بھی حساب ہونا چاہیے۔
ادشاہِ اردن شاہ عبداللّٰہ دوم 2 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے جہاں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف زرداری نے اُن کا استقبال کیا۔ وزیراعظم ہاؤس میں پُروقار استقبالیہ تقریب کا انعقاد، شاہ عبداللّٰہ دوم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
عمران خان کی افغان پالیسی نے قومی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔ سفارتی احتیاط اور ریاستی حکمت کے بجائے انہوں نے قومی مفاد کو ذاتی مقبولیت کے تابع کر دیا، یوں وہ تمام رکاوٹیں کمزور ہو گئیں جو دشمن کی واپسی کے راستے میں حائل تھیں۔ آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، وہ پالیسی کی اصلاح نہیں بلکہ تاخیر سے شروع ہونے والا ایک مشکل اور ناگزیر ریسکیو مشن ہے۔
پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان نے ہمیشہ دوستی اور یکجہتی کا ثبوت دیا اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ تینوں ممالک کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ جنگ میں ترکیہ اور آذربائیجان کی حکومتیں پاکستان کے ساتھ کھڑی رہیں۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
Pakistan received $3.5 billion in workers’ remittances in April 2026, with Saudi Arabia and the UAE leading inflows and cumulative FY26 remittances reaching $33.9 billion.
Prime Minister Shehbaz Sharif says Pakistan has received Iran’s response, signalling that Islamabad’s mediation channel remains active as regional diplomacy enters a sensitive phase.
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث عوام سراپا احتجاج، وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا۔ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔