حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کے راہنما میاں جاوید لطیف نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ”پاکستان کے عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر رہ گئے ہیں، حکومت کو پیٹرول پر لیوی کم کر کے عوام کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے“۔
حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کے راہنما میاں جاوید لطیف نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ”پاکستان کے عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر رہ گئے ہیں، حکومت کو پیٹرول پر لیوی کم کر کے عوام کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے“۔اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ پر عوام سراپا احتجاج، وفاقی حکومت کو عوامی حلقوں میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پاکستان کی وفاقی حکومت نے گزشتہ روز پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ کا اعلان کیا جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 414 روپے 58 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی۔
اِس سے قبل بدھ کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جب امریکی خام تیل کی قیمت میں 12 اعشاریہ 30 ڈالرز فی بیرل جبکہ برطانوی خام تیل کی قیمت میں 11 اعشاریہ 28 ڈالرز فی بیرل کمی واقع ہوئی جس کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت 89 اعشاریہ 94 ڈالرز فی بیرل جبکہ برطانوی خام تیل کی قیمت 98 اعشاریہ 25 ڈالرز فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کرتی نظر آئی۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا جائے گا کیونکہ پاکستان اپنی مجموعی ضرورت کا تقریباً 80 فیصد تیل درآمد کرتا ہے۔ تاہم جمعہ کے روز وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث عوامی سطح پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا جا رہا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق عالمی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی موجودہ قیمتوں کے تناظر میں گزشتہ رات پاکستان میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 268 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت تقریباً 342 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے تھی۔ تاہم ذرائع کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فرق کی اصل وجہ اِن پر عائد پیٹرولیم لیوی کی شرح ہے جس میں اضافہ کے نتیجہ میں گزشتہ رات دونوں کی قیمتوں میں اضافہ کا اعلان کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق پیٹرول پر عائد پیٹرولیم لیول میں 14 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد وہ مجموعی طور پر 103 روپے 50 پیسے فی لیٹر سے بڑھ کر 117 روپے 41 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اِسی طرح ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی، جو پہلے 28 روپے 69 پیسے فی لیٹر تھی اور اب 13 روپے 91 پیسے فی لیٹر بڑھا دی گئی ہے، مجموعی طور پر 42 روپے 60 پیسے فی لیٹر پر پہنچ چکی ہے۔
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کے بعد جہاں عوامی سطح پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہیں سوشل میڈیا پر اہم سیاسی و سماجی شخصیات اور عام صارفین بھی سراپا احتجاج دکھائی دیتے ہیں۔
جمعیت علماء پاکستان کے سیکرٹری جنرل شاہ اویس نورانی نے لکھا؛ یہ حکومت وہ ماں بن گئی ہے کہ جس کے گھر معذور پیدا ہو تو بھیک سے مال بنانے لگ جائے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے میں صرف ایک مثبت بات سامنے آئی۔
کہ کم از کم میں نے تو ایسا کوئی اندھا بھگت کارکن یا صحافی نہیں دیکھا جو حکومت کے ظلم کا دفاع کر رہا ہو۔
ایک حکمران جماعت کے لیڈر کا کہنا تھا یہ حکومت وہ ماں بن گئی ہے کہ جس کے گھر معذور پیدا ہو تو بھیک سے مال…— Shah Owais Noorani (@iamowaisnoorani) May 9, 2026
معروف صحافی انصار عباسی نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا؛ مہنگے پیٹرول پر ٹیکس چھوٹ کی بجائے ٹیکس میں مزید اضافہ کرنا عوام پر ظلم ہے، آئی ایم ایف سے بات کر کے لیوی کو کم ترین سطح پر لایا جائے۔
مہنگے پیٹرول پر ٹیکس پر چھوٹ لینے کی بجائے اس ٹیکس میں مزید اضافہ کرنا عوام پر ظلم ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کے اُس بیان کی نفی بھی جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ مزید بوجھ عوام پر نہیں منتقل کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف سے بات کر کے لیوی کو کم سے کم ترین سطح پرلایاجائے۔@CMShehbaz https://t.co/Thw5A4hkgb
— Ansar Abbasi (@AnsarAAbbasi) May 9, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر (ایکس) پر ایک صارف ”کِپسم ملک“ نے وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے پاکستان کے چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی اِس سوغات کو واپس لے جائیں کیونکہ یہ عوام کا خون چوس کر اُنہیں آپ کا مخالف بنا رہا ہے۔
عاصم منیر صاحب ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں آپ کا ایک لیول ہے خدارا اس لیول کو برقرار رکھیں اور اپنے اس رجنی کانت والی سوغات کو واپس لے جائیں یہ عوام کا خون چوس کر عوام کو آپ کے خلاف کر رہا ہے
جہاں سے ٹیکس اکھٹا نہیں ہوتا وہاں کا ٹیکس بھی عوام سے نچوڑ لیتا ہے pic.twitter.com/lKOPlyripK
— Kippsam Malik (@KeepsamM) May 9, 2026
کامران احسن نامی ٹویٹر (ایکس) صارف نے لکھا؛ اِس وقت ایکس کا ماحول ”معرکہِ حق“ سے معرکہِ ”پیٹرول“ میں بدل چکا ہے۔ حتیٰ کہ اُنہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ حکومت میں کوئی راء کا ایجنٹ بیٹھا ہے جس نے پیٹرول قیمت میں اضافہ کیلئے ایسا وقت مقرر کروایا۔
اس وقت X کا ماحول مکمل طور پر "معرکہ حق" سے "معرکہ پٹرول" میں بدل چکا ہے. کوئی تو را کا ایجنٹ حکومت میں بیٹھا ہے جس نے یہ پٹرول کی قیمت بڑھانے کے لئے یہ ٹائمنگ سیلیکٹ کروائی ہے؟
— Kamran Ahsan (@KamranA42766683) May 9, 2026
صحرانورد (عادی) نامی صارف نے اپنے پیغام میں لکھا؛ اِس حکومت کو یہ تو کریڈٹ دینا چاہئے کہ اِس نے کسی تفریق کے بغیر امیر، غریب اور متوسط طبقات کو یکساں طور پر رُلایا ہے۔
اس حکومت کو یہ تو کریڈٹ دینا چاھئے کہ اس نے بغیر تفریق سب امیر غریب متوسط طبقے کو یکساں رلایا ھے۔
— صحرانورد (@Aadiiroy2) May 9, 2026
حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کے راہنما میاں جاوید لطیف نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ”پاکستان کے عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر رہ گئے ہیں، حکومت کو پیٹرول پر لیوی کم کر کے عوام کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے“۔
پاکستان کے عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر رہ گئے ہیں،حکومت کو پیٹرول پر لیوی کم کرکے عوام کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی کیلئے ضروریات زندگی کی اشیاء بھی مہنگی ہو جاتی ہیں جس کو پورا کرنے کیلئے غریب پس جاتا ہے۔ pic.twitter.com/lCVTK5CcLm
— Mian Javed Latif (@Mian_JavedLatif) May 9, 2026




