شیر افضل مروت نے تحریکِ انصاف اور علیمہ خان پر مالی بےضابطگیوں کے سنگین الزامات عائد کر دیئے؛ پی ٹی آئی نے 26 نومبر کے نام پر 38 کروڑ روپے اکٹھے کیے جس کا باقاعدہ کوئی حساب نہیں، فنڈز علیمہ خان اور خدیجہ شاہ کے زیرِ انتظام تھے، وکلاء کو 1 ارب سے زائد روپے دیئے جا چکے، علیمہ خان بشریٰ بی بی کیلئے ایک دن کی مار ہیں۔
ٹی ٹی پی کے لوگوں کو ہم نہیں بلکہ جنرل (ر) فیض حمید لائے تھے، ہماری مت ماری گئی تھی کہ وہ ہمارے پسندیدہ تھے، عمران خان ناجائز کیسز میں پابندِ سلاسل ہیں، قانون کی حکمرانی ہوتی تو تین سے چار روز میں رہا ہو جاتے، عمر عطا بندیال کمزور جج تھے جنہیں ڈرایا گیا اور وہ ڈر گئے۔
لقد أطاحت المملكة العربية السعودية بحكومة عمران خان، وكانت المملكة العربية السعودية والولايات المتحدة هما الدولتان اللتان اكتملت بدعمهما عملية تغيير النظام. كما أن الدعم الاقتصادي الذي تقدمه المملكة العربية السعودية لباكستان هو أيضًا جزء من نفس التخطيط، شير أفضل مروات۔
عمران خان کی حکومت سعودی عرب نے گِرائی تھی، سعودی عرب اور امریکہ دو ممالک تھے جن کے تعاون سے رجیم چینج آپریشن مکمل ہوا، سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کیلئے معاشی تعاون بھی اسی پلاننگ کا حصہ ہے۔
راہنما تحریکِ انصاف شیر افضل مروت
عمران خان توشہ خانہ کیس میں سزا کے باعث تحریکِ انصاف کی چیئرمین شپ سے دستبردار ہو گئے ہیں، عمران خان تحریکِ انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات میں چیئرمین کے امیدوار بھی نہیں ہوں گے۔
The Institute of Regional Studies hosted a seminar in Islamabad on Greater Eurasia, where speakers from Pakistan, Türkiye and Azerbaijan called for deeper connectivity, stronger trade corridors and closer strategic cooperation in a rapidly changing multipolar order.
Pakistan’s growing diplomatic relevance has triggered a sharper narrative war, with foreign criticism, hostile media framing and domestic security incidents being used to cast Islamabad as unstable just as it re-enters the centre of regional diplomacy.
The State Bank of Pakistan’s Half Year Report shows stronger growth, lower inflation, rising reserves and a rare fiscal surplus, but warns that weak exports, low investment, climate shocks and Middle East instability could still test the recovery.
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں قطر اور ترکیہ بھی شامل ہو سکتے ہیں، خطہ میں اِس اتحاد کے قیام سے بیرونی انحصار کم ہو گا۔ پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے۔
پاکستان کو اپریل 2026 میں ترسیلاتِ زر کی مد میں 3.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان رقوم کے سب سے بڑے ذرائع رہے۔ جولائی تا اپریل 2026 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 31.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔