ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پڑوسی ممالک سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ایران کی عبوری قیادت کونسل نے اِس بات کی منظوری دی ہے کہ ہمسایہ ممالک کے خلاف کوئی حملہ یا میزائل سٹرائیک نہیں ہو گا جب تک کہ اُن ممالک کی طرف سے ایران کے خلاف کوئی حملہ نہیں کیا جاتا۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ اُس وقت تک نہیں ہوگا جب تک تہران “غیر مشروط ہتھیار نہ ڈال دے”، اور اس کے بعد ہی واشنگٹن کے نزدیک قابلِ قبول قیادت کے ساتھ ایران کو دوبارہ مضبوط بنانے کی بات ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ نے اس کے لیے اپنا نیا نعرہ بھی پیش کیا ہے: “میک ایران گریٹ اگین”۔
Donald Trump has hardened his stance on Iran by declaring that no agreement is possible without “unconditional surrender”, while also saying the United States and its allies would help rebuild the country only after the emergence of what he called “great and acceptable” new leadership.
بھارت اپنے دیرینہ اتحادی ایران کو فراموش کر کے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ ماضی میں کشمیر سے متعلق ایرانی حمایت کے باوجود مودی حکومت کی تہران پر اسرائیلی حملوں اور خامنہ ای ہلاکت پر خاموشی بھارتی میراث سے دستبرداری ہے۔
Iran’s chief of staff Abdolrahim Mousavi was killed in strikes on Tehran, claims Israel’s military. The IDF also says it targeted additional senior security figures and commanders in the capital.
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔
Prime Minister Shehbaz Sharif has signed the Islamabad MoU as mediator after Donald Trump and Masoud Pezeshkian endorsed the US-Iran agreement aimed at ending hostilities and reopening the Strait of Hormuz.