پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر ہے جہاں مذہبی سیاست اور مسلح انتہا پسندی دونوں ریاستی استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ ٹی ایل پی سڑکوں پر انتشار پھیلا رہی ہے اور ٹی ٹی پی بندوق کے زور پر ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہی ہے۔ دونوں کا مقصد مختلف مگر نتیجہ ایک ہے پاکستان کی کمزوری۔ اب وقت ہے کہ ریاست ایک ہی معیار اپنائے اور "سب سے پہلے پاکستان" کو نعرے سے بڑھا کر قومی پالیسی بنائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بڑے دہشتگرد کی گرفتاری میں پاکستان کے کردار کی تعریف، پاک امریکی تعلقات مضبوطی کی جانب اشارہ۔ صدر ٹرمپ کی پاکستانی حکومت کی تعریف کے بعد عمران خان کے حامی جو امریکی دباؤ کے ذریعے ان کی رہائی کی امید کر رہے تھے، اس بیان کے بعد ان کی امیدیں ماند پڑگئیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز
اقوام متحدہ نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو سب سے بڑا دہشت گرد گروپ قرار دے دیا۔ کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان کے اندر شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کیخلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کو مسلسل استعمال کر رہی ہے۔
Zulfikar Bukhari's remarks to Reuters, describing a freed Imran Khan as unwilling to confront army chief Asim Munir, don't just shift PTI's tone. Coming from one of Khan's closest aides, they quietly kill the "dut kar khara hai kaptaan" promise that has held the party's base together for two years.
The Supreme Court has ordered the transfer of Imran Khan from Adiala Jail to Shifa International Hospital for medical assessment and treatment, while directing that his health condition should not be used for political activity or media campaigning.
Countries do not enter mutual defence commitments with partners whose reliability they doubt, because the cost of misjudging that is measured in soldiers. Riyadh and Ankara have decided Pakistan is a state whose word will hold when it is expensive to hold it.
Saudi Arabia, Turkey and Pakistan have signed the Makkah Joint Defence Agreement at Al-Safa Palace, a trilateral pact under which an armed attack against any one of the three states will be regarded as an attack against them all.
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاعی، عسکری اور تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔