ACROSS TT

News

Trump says Iran deal could come this weekend

Trump says US-Iran negotiations are going very well and a deal could come this weekend, while cautioning it might not happen. Talks back on track.

Pakistan manufacturing returns to growth as export orders hit 15-month high

Per a new purchasing managers’ survey released by HBL and S&P, Pakistan’s manufacturing PMI rose to 50.9 in May, returning to expansion as new orders recovered and export orders posted their strongest rise since February 2025.

Pakistan’s ports see sharp container surge as Gulf disruption shifts cargo routes

Pakistan’s major ports are seeing a sharp rise in container and transshipment activity as Gulf disruption redirects cargo towards Karachi, Port Qasim and Gwadar.

Iran prepares three-day farewell ceremonies and 24-hour funeral procession for Ali Khamenei

Iranian officials are preparing three days of farewell ceremonies and a 24-hour funeral procession for Ali Khamenei, with events expected in Tehran, Qom and Mashhad.

EU formally commends Pakistan’s Iran mediation as Kallas visits Islamabad

The EU formally commended Pakistan's Iran mediation, supported Pakistan's Kashmir position, called for action against Afghan terrorist groups and backed a two-state solution for Palestine in joint communiqué. Kallas met PM Shehbaz and Field Marshal Munir.
Newsroomاقوام متحدہ رپورٹ؛ تحریک طالبان پاکستان سب سے بڑا دہشت گرد گروپ...

اقوام متحدہ رپورٹ؛ تحریک طالبان پاکستان سب سے بڑا دہشت گرد گروپ قرار

اقوام متحدہ نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو سب سے بڑا دہشت گرد گروپ قرار دے دیا۔ کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان کے اندر شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کیخلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کو مسلسل استعمال کر رہی ہے۔

spot_img

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش کی جانے والی 15ویں رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان میں سب سے بڑا دہشت گرد گروپ بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ رپورٹ ٹی ٹی پی، داعش (آئی ایس آئی ایس)، اور القاعدہ سمیت دہشت گرد گروپوں کی نگرانی کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم نے تیار کی ہے، جس میں خطے میں ٹی ٹی پی کے اثر و رسوخ اور عملی صلاحیتوں میں اضافہ کی تشویشناک صورتحال کو اجاگر کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں ٹی ٹی پی کی بڑھتی ہوئی قوت اور افغانستان میں اس کے مضبوط قدم جمانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں اس وقت تقریباً 6,000 سے 6,500 ٹی ٹی پی کے لڑاکا موجود ہیں۔ رپورٹ میں اس اضافے کی وجہ مقامی عسکری نیٹ ورکس کے ساتھ ٹی ٹی پی کی شراکت داری، القاعدہ سے ملنے والی عملی اور لاجسٹک مدد، اور افغان طالبان کی خاموش حمایت کو قرار دیا گیا ہے۔

ٹی ٹی پی نے افغانستان کے اہم صوبوں جیسے کنڑ، ننگرہار، اور پکتیکا میں مضبوطی سے اپنے قدم جمائے ہیں، جو پاکستان میں سرحد پار کارروائیاں کرنے کے اڈے کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس اسٹریٹجک مقام نے ٹی ٹی پی کو پاکستانی سیکورٹی فورسز اور شہریوں کے خلاف متعدد حملے کرنے کے قابل بنایا ہے، جس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی نے طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد اپنے حملوں میں شدت پیدا کی ہے۔ اس میں افغان طالبان کے اراکین کی مدد بھی شامل ہے جو مذہبی فریضہ سمجھ کر ٹی ٹی پی کی مدد کرتے ہیں، انہیں ہتھیار، سامان اور تربیتی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔

ٹی ٹی پی کا دوبارہ ابھرنا علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔ گروپ کی کارروائیاں نہ صرف افغانستان کے اندر سیکورٹی کو خطرے میں ڈالتی ہیں بلکہ پڑوسی پاکستان کے ساتھ بھی کشیدگی میں اضافہ کرتی ہیں۔ اسلام آباد نے بارہا افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی ٹی ٹی پی کی صلاحیت پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور افغان حکام سے مضبوط انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

بڑھتے ہوئے خطرے کے جواب میں بین الاقوامی برادری، بشمول علاقائی اسٹیک ہولڈرز اور عالمی طاقتیں، نے مربوط انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ٹی ٹی پی کے اثر و رسوخ کو کم کرنے اور خطے میں مزید عدم استحکام کو روکنے کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ میں اضافہ، ٹی ٹی پی کے رہنماؤں پر پابندیاں، اور افغان سیکورٹی فورسز کے لیے استعداد سازی کی پہل کی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف لڑنے کے لیے ایک متحدہ نقطہ نظر کی فوری ضرورت ہے، تاکہ افغانستان دوبارہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مرکز نہ بنے۔

Read more

میاں نواز شریف! یہ ملک بہت بدل چکا ہے

مسلم لیگ ن کے لوگوں پر جب عتاب ٹوٹا تو وہ ’نیویں نیویں‘ ہو کر مزاحمت کے دور میں مفاہمت کا پرچم گیٹ نمبر 4 کے سامنے لہرانے لگے۔ بہت سوں نے وزارتیں سنبھالیں اور سلیوٹ کرنے ’بڑے گھر‘ پہنچ گئے۔ بہت سے لوگ کارکنوں کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر مظاہروں سے چوری چھپے منع کرتے رہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کو لیڈر تسیلم کرنے سے منکر رہے اور نواز شریف کی بیٹی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے۔

Celebrity sufferings

Reham Khan details her explosive marriage with Imran Khan and the challenges she endured during this difficult time.

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
spot_img

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.