پاکستان 30 مارچ کو چار ملکی اہم اجلاس کی میزبانی کرے گا جس میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے۔ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت مشاورتی اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے متعلق اہم پیش رفت متوقع ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان رابطہ؛ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور ممکنہ جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کیلئے ثالثی کے کردار میں متحرک، اسلام آباد نے سفارتی سطح پر بیک چینل رابطے بھی تیز کر دیے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترکیہ کے آرمی چیف سے ٹیلیفونک گفتگو؛ دونوں ممالک کے باہمی دفاعی تعلقات، خطہ میں بڑھتی کشیدگی اور بدلتی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات کے بعد یہ رابطہ اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
After failed negotiations with the Afghan Taliban in Doha and Istanbul, Pakistan warned it would take all necessary steps to protect its citizens and eliminate militant groups it blames for cross-border attacks, signalling a potential escalation in regional tensions.
پاکستان نے افغان طالبان سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دہشت گردوں، ان کے ٹھکانوں اور معاونین کے خلاف ہر ممکن کارروائی کی جائے گی۔
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔
Prime Minister Shehbaz Sharif has signed the Islamabad MoU as mediator after Donald Trump and Masoud Pezeshkian endorsed the US-Iran agreement aimed at ending hostilities and reopening the Strait of Hormuz.