امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی بُڈاپیسٹ (ہنگری) میں ملاقات کا فیصلہ کس نے کیا؟ صحافی کے سوال کے جواب میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ کا جواب: تمہاری ماں نے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے سفارتی مہارت سے ثابت کیا کہ ٹرمپ جیسے طاقتور رہنما سے کیسے مؤثر انداز میں ڈیل کی جاتی ہے۔ غزہ جنگ بندی کے بعد ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا “پسندیدہ فیلڈ مارشل” قرار دیا، جبکہ واشنگٹن اسلام آباد کو خطے میں اہم شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
Donald Trump said his phone call with Vladimir Putin was “very productive,” announcing plans for a high-level peace summit in Budapest aimed at ending the Russia-Ukraine war. The former U.S. president claimed “great progress” was made and that he would brief Ukrainian President Volodymyr Zelenskyy at the White House.
Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu issued a rare formal apology to Qatari Prime Minister Sheikh Mohammed bin Abdulrahman Al Thani for Israel’s attack on Doha during a telephone call from the White House, held as Netanyahu met US President Donald Trump, in a move highlighting sensitive behind-the-scenes diplomacy and growing efforts to ease regional tensions.
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی سے دوحہ پر کیے گئے اسرائیلی حملے پر باقاعدہ معذرت کرلی۔۔ یہ ٹیلی فونک گفتگو اس وقت ہوئی جب نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر رہے تھے۔
Iranian media say Tehran is closing or keeping the Strait of Hormuz closed over alleged breaches of the Islamabad MoU, while US officials say they have not seen evidence of a physical closure.
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر امریکا ایران امن معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر اندرونی سیاسی دباؤ ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
Pakistan did what many thought impossible: it helped secure a US-Iran framework that has entered into force and now moves into technical implementation.
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا ایران معاہدے (اسلام آباد مفاہمتی یادداشت) پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
اسلام آباد ایم او یو پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط بھی موجود ہیں۔
اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان تسلیم شدہ ثالث کے طور پر اُبھرا ہے۔
Prime Minister Shehbaz Sharif has signed the Islamabad MoU as mediator after Donald Trump and Masoud Pezeshkian endorsed the US-Iran agreement aimed at ending hostilities and reopening the Strait of Hormuz.